تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 356 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 356

۳۵۳ مرحب ائیں اور اسی طرح سارے ہندو سکھ اور غیر مذاہب والے مر جائیں۔اگر ایسا ہو توہم تو بلوچستان کو بھی آزاد نہیں کر سکتے جس کی آبادی بہت ہی کم ہے۔ہمارہ: احمدی دو تین لاکھ ہیں مگر بلوچستان کی آبادی دس بارہ لاکھ کے قریب ہے۔اگر ساری قوید، مر جائیں اور احمدی ہی زندہ رہ جائیں تو یہ ہلو پستان بھی ویران نظر آنے لگ جائے گا۔اگر ہم کہیں کہ چلو باقی بلوچستان چھوڑ دو ہم صرف پاکستانی بلوچستان کو آباد کر لیں گے تو پاکستانی بلوچستان کی آبادی بھی چار لاکھ ہے۔اس میں بھی صرف دو تین لاکھ احمدی آباد ہوں گے باقی سارا بلوچستان خالی پڑا ہو گا۔اسی طرح سب کا سب چین، جاپان، انڈونیشیا ، انگلستان، فرانس، امریکہ اور دوسرے ممالک بالکل ویران اور اجاڑ ہوں گے۔شیر اور چیتے ہر جگہ پھر رہے ہوں گے اور ہم دنیا کے ایک گوشہ میں بیٹھے اِس بات پر خوش ہوں گے کہ ہم نے ساری دنیا فتح کرلی ہے مگر کیا یہ مقصد کوئی اعلیٰ درجہ کا مقصد ہے ، پھر کیا چیز رہ جاتی ہے جس سے ہم دنیا کو فتح کر سکتے ہیں ، وہ یہی چیز ہے کہ تم لوگوں کو احمدی بناؤ اور احمدیت کی تبلیغ اپنے پورے زور کے ساتھ کرو یہی ایک معقول چیز ہے جو روحانی بھی ہے اور جسمانی فائدہ بھی اس سے حاصل ہوتا ہے اور جس سے دنیا کو حقیقی معنوں میں سکھ اور آرام میسر آسکتا ہے۔یہ لے (خطبہ جمعہ فرموده ۸ و فار جولائی) (۲) ہمارے ایک نئے احمدی دوست ہیں بلوچستان میں ملازم ہیں ویسے یوپی کے رہنے والے ہیں وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ وہ کونسے طریقے ہیں جن کو اختیار کرنے سے بلوچستان میں تبلیغ کامیاب ہو سکتی ہے، ایکس نے سمجھ لیا کہ ان میں اس چیز کا احساس پایا جاتا ہے اور کس نے اُن کو کئی ایک طریقے بتائے جن کو اختیار کرنے سے بلوچستان میں تبلیغ کامیاب ہو سکتی ہے۔قادیان کے ارد گرد کی جماعتوں کو میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اور پھر تھوڑے ہی عرصہ میں جماعت کی تعداد دس بارہ ہزار سے ترقی کر کے ساٹھ ستر ہزار ہو گئی تھی۔پس اگر اس طرف ذرا بھی توجہ کی جاتی تو بیشکل کام نہ تھا۔جو طریقہ یہاں کی جماعت کے دوستوں نے اختیار کیا ہوا ہے یا عام طور پر احمدی جماعتیں اختیار کرتی ہیں وہ غلط ہے۔دوستوں کو اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئیے صیح طریقہ یہی ہے کہ تم اپنے دوستوں سے صاف معان له الفضل ، و فار جولائی ۱۲۵ ۵۰۲