تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 352 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 352

۳۴۹ بھی جائزہ لینا پڑے گا۔اگر اس کے بغیر ہم کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو درحقیقت وہ صحیح فیصلہ نہیں کہلا سکتا دوسری چیز جو پاکستان کے مستقبل کے متعلق ہمیں ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہیئے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل محض اسلام کو اپنی عملی زندگی میں داخل کرنے کے ساتھ وابستہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کا مطالبہ اس بناء پر کیا تھا کہ ہماری تہذیب الگ ہے اور ہندو تہذیب الگ۔جب مسلمانوں نے یہ مطالبہ کیا اُس وقت پنڈت جواہر لال صاحب نہرو نے ایک مضمون لکھا تھا کہ بتاؤ تمہاری کو نسی تو ذیب، ہے جو ہندو متنانی تہذیب سے الگ ہے ؟ ہم اس وقت کہہ سکتے تھے کہ یہ چیز عمل سے تعلق رکھتی ہے عمل کا موقع آئے گا تو ہم تمہیں بتائیں گے کہ ہماری تہذیب کونسی ہے مگر اب جبکہ ہمیں اس تہذیب کو قائم کرنے کا موقع مل گیا ہے پنڈت نہرو اور ان کے ساتھی اگر ہم سے یہ سوال کہ میں کہ وہ کونسی تہذیب ہے جس کے لئے تم نے پاکستان مانگا تھا تو یقیناً وہ اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب ہونگے یہ ظاہر ہے کہ جس تہذیب کے بچانے کا ہم دعوی کر رہے تھے وہ ایرانی نہیں تھی نہ وہ پٹھانی، بلوچی، سندھی، پنجابی یا بنگالی تہذیب تھی کیونکہ نہ ہم سارے ایرانی تھے نہ ہم سارے پٹھان تھے نہ ہم سارے بلوچی تھے نہ ہم سارے سندھی تھے نہ ہم سارے پنجابی تھے اور نہ ہم سارے بنگالی تھے پھر وہ کیا چیز تھی جس کے لئے ہم سب لڑ رہے تھے یقیناً اسلام ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہم سب میں شترکہ طور پر پائی جاتی ہے اور اسلامی تہذیب ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے قیام کا ہم میں سے ہر شخص خواہش مند تھا۔اسی تہذیب کے قیام کے لئے ہم نے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا اب جبکہ علیحدگی ہو چکی ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے وہ غرض پوری کر لی ہے جس کے لئے ہم نے علیحد گی طلب کی تھی ؟ اگر ہم نے اس غرض کو پورا نہیں کیا تو دنیا ہمیں کہے گی کہ تم نے غلط دعویٰ کیا تھا درحقیقت تم الگ ذاتی حکومت چاہتے تھے مگر نا واقف لوگوں میں جوش پیدا کرنے کے لئے تم نے اسلامی تہذیب کے نام سے شور مچا دیا مختصر لفظوں میں میں یوں سمجھتا ہوں کہ ہماری لڑائی اس لئے نہیں تھی کہ ہم اپنے لئے گھر مانگتے تھے بلکہ ہماری لڑائی اِس لئے تھی کہ اس ملک میں ہمارے آقا اور سردار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہیں تھا ہم ایک زمین چاہتے تھے جسے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی زمین کہا جاسکے۔ہم ایک ملک چاہتے تھے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وستم کا ملک کیا جا سکے ہم ایک حکومت چاہتے تھے جسے محمد رسول اللہ کی حکومت کہا جاسکے اور