تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 321
۳۲۱ بقول خان صاحب حضرت بسید امیر صاحب رحمتہ اللہ علیہ مجد دوقت ساکن کو ٹھہ نے نماز پڑھائی مفتی یہ چارسدہ سے اوتمان زئی اور دوسرے دن حضور خان صاحب محمد اکرم صاحب دورانی اور حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کے ہمراہ خان برادران خان برادران سے ملاقات سے ملاقات کے لئے اوتمان زئی تشریف لے گئے حضرت مصلح موعود نے اس سفر کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا :- 19 میں جب میں پشاور گیا تو۔۔۔ڈاکٹر خان صاحب اور عبد الغفار خان صاحب سے بھی ملنے گیا۔جہاں تک ظاہری اخلاق کا سوال ہے انہوں نے بڑا اچھا نمونہ دکھایا مثلاً دونوں بھائیوں میں ان دنوں کسی وجہ سے شکر رنجی تھی اس لئے وہ آپس میں ملتے نہیں تھے۔ہماری ملاقات کی یہ تجویز ہوئی کہ وہ ڈاکٹریناں صاحب کے گھر پر ہو۔در و صاحب میرے ساتھ تھے لیکں نے انہیں کہا کہ وہ خان عبد الغفار خاں صاحب سے معذرت کریں اور کہیں کہ لیکن ڈاکٹر خاں صاحب کے ہاں جاؤں گا شاید آپ ان کے مکان پر نہ آسکیں۔انہوں نے کہلا بھیجا آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان کی خاطر میں وہیں آجاؤں گا۔چنانچہ وہ وہیں آگئے اور ایک گھنٹہ تک ہماری آپس میں گفت گو ہوتی رہی۔یکس نے خان عبد الغفار خان صاحب سے سوال کیا کہ اگر پاکستان میں کوئی گریٹر ہوئی اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہندوستان کی فوجیں پاکستان میں آگئیں تو کیا یہاں کے مسلمانوں کی حالت ویسی ہی نہیں ہو جائے گی جیسی مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی ہوئی تھی ؟ اس پر انہوں نے بے ساختہ جواب دیا کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے مسلمانوں کی حالت مشرقی پنجاب کے مسلمانوں جیسی نہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے اس کا وجود ضروری تھا یا نہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اگر کچھ ہوا تو اس کا اثر لاز ما مسلمانوں پر پڑے گا۔اگر پاکستان خطرے میں پڑ جائے تو یہ یقینی بات ہے کہ پاکستان میں اسلام محفوظ نہیں رہ سکتا۔ہندوؤں میں پہلے بھی بڑا تعصب تھا اور ہم نے اس اختلاف