تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 317
۳۱۷ بنے رہے۔رات کے سوا گیارہ بجے کے قریب واپسی ہوئی۔لہ انگلی شام کو حضور میجر جنرل نذیر احمد صاحب کے ہاں دعوت پر تشریف لے گئے جہاں دوسرے فوجی اور سول افسروں کے علاوہ خان عبد القیوم خان صاحب وزیر اعظم سرحد اور خان محمد عباس صاحب وزیر مال مصوبہ سرحد بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔کھانے کے بعد یہاں بھی علمی گفتگو کے دوران مختلف سوالات کئے گئے تھے حضرت امیر المومنین المصلح الموعود پبلک جلسوں اور پرائیویٹ پشاور میں ملیں علم و عرفان تقاریب میں شمولیت کے علاوہ قیام پشاور کے دوران مختلف ماندن کے بعد جلیس علم و عرفان میں بھی رونق افروز ہوتے اور ملک کے پیش آمدہ اہم علمی مسائل میں رہنمائی فرماتے رہے۔ان مبارک ایام میں بہت سی حق و صداقت سے بریہ باتیں حضور کی زبان مبارک سے حاضرین نے سنیں اور اپنے ایمانوں کو زندہ اور روحوں کو تازہ کیا۔ان روح پرور مجالس کی مختصر رپور میں جناب عبد الحمید صاحب آصف نے مرتب کی تھیں جو انہیں دونوں الفضل میں محفوظ ہوگئیں یہ ہیں مجلس علم و عرفان کے دو ایک اہم ارشاد بطور نمونہ ذیل میں ملاحظہ ہوں :- تبلیغ اسلام کی اہمیت۔تمام انبیاء اور ان کی جماعتیں ایک سے حالات میں سے گزرتی ہیں۔دُنیا اُئی کو پاگل کہتی ہے کام کے لحاظ سے بھی اور ہاتوں کے لحاظ سے بھی۔مومن پاگل نہیں ہوتا لیکن دنیا ہمیشہ اُسے پاگل کہتی آئی ہے۔انبیاء کی جماعتوں کے اندر ایک جنون ہوتا ہے اور اس جنون کے طفیل وہ دنیا پہ چھا جاتی ہیں۔دنیا کہتی ہے ہم تمہاری باتیں نہیں سنتے مگر وہ پیچھے پڑے رہتے ہیں۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ صداقت کو قبول کروانا اور دیوں میں ایمان پیدا کرنا ایک بہت بڑی قربانی چاہتا ہے جو بغیر جنون کے نہیں ہو سکتی۔اس لئے تم اپنے اندر ایک مجنونانہ کیفیت پیدا کرو اور یہ یادر کھو کہ بغیر تبلیغ کے اسلام کا میاب نہیں ہو سکتا۔تم اس حربہ کو استعمال کر کے کامیاب ۶۱۹۴۸ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ریکارڈ سے ملخصاً ء سے اس گفت گو کا خلاصہ الفصل ۱۴ ماه ڈھٹا ۲ شهادت / اپریل میں چھپ چکا ہے ، ٣ الفصل 10 شہادت / اپریل تبلیغ اور پردہ کے بارے ہیں) ۱۷۔هیر ܀ شهادت برا اپریل ۲۲۰ شهادن، اپریل ۵ ہجرت رسمی اسلامی قانون کے متعلق اہم سوالات کے جواب ) ۲۳ ہجرت ارمنی اسلامی حکومت کے پاکستان میں قیام سے متعلق) +