تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 310 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 310

۳۱۰ حضرت امیر المومنین ۳ ماہ شہادت / اپریل کو نماز عشاء کے بعد لاہور کے اسٹیشن پر تشریف لائے لاہور کے احمدی حضور کو الوداع کہنے کے لئے وہاں موجود تھے۔حضور احباب کی خاطر گاڑی کی روانگی تک ٹرین کے دروازہ میں ہی کھڑے رہے۔گاڑی پا و بجے رات روانہ ہو کر گوجرانوالہ پہنچی تو متعد د احمدی دوست اپنے محبوب آقا کی زیارت و استقبال کے لئے پلیٹ فارم پر موجود تھے اسی طرح وزیر آباد، لالہ موسیٰ جہلم اور راولپنڈی کی جماعتوں کے دوست بھاری تعدا دمیں سٹیشنوں پر حضور کے استقبال کے لئے آتے رہے۔کیمبل پور اسٹیشن پر نہ صرف احمدی موجود تھے بلکہ غیر احمدی دوست بھی حضور ینہ کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔یہ سب قطاروں میں کھڑے تھے حضور نے ٹرین سے نیچے اُتر کر ہر ایک سے مصافحہ کیا اور مصافحہ کے دوران میں چوہدری اعظم علی صاحب سب بیج درجہ اول ہر آدمی کا تعارف کو اتے جاتے تھے۔ایک دوست کا نام چوہدری اعظم علی صاحب نے محمد جہاں بتا یا اس دوست کے پاس حضور کھڑے ہو گئے اور پوچھا آپ کا نام حمد جعفر نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور میرا نام محمد جعفر ہی ہے۔اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ حضور میں نام اور نہیں کر سکا۔لاکھوں کی جلاتے کے امام کو اپنے خدام کے اس طرح نام یاد ہونا حیرت انگیز چیز تھی۔نوشہرہ چھاؤنی پر چالیس احمدی اور تمیں غیر احمدی دوست حضور کی زیارت کے لئے موجود تھے حضور نے ان سب کو مصافحہ کا شرف بخشا اور مصافحہ کے دوران میں مرزا اللہ دتہ صاحب میکوری مال دوستوں کا تعارف کراتے بجاتے تھے۔اس کے بعد جماعت کی طرف سے حضور کی خدمت ہیں اور آپ کے ساتھ والے قافلہ کو ناشتہ پیش کیا گیا۔مرزا غلام حیدر صاحب امیر جماعت مقامی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور غیر احمدی دوست اس بات کے خواہشمند ہیں کہ حضور ان کو کچھ نصائح فرمائیں۔اِس پر حضور نے ٹرین سے اتر کر مختصر خطاب فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ زندوں کی خرابیاں اگر دُور ہو جائیں گی تو خدا تعالیٰ ان کے مرے ہوئے بزرگوں کی قبروں کی دوستی اور حفاظت کے سامان بھی کر دے گا اور مسلمانوں کے استحکام کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔اللہ تعالی اسلام کے ساتھ محبت کرتا ہے اور وہ اسلام کے ساتھ محبت کرنے والوں کو کبھی ذلیل نہیں کرے گا۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں گے اور اپنے ظاہر کو