تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 309
٣٠٩ آپ کا یہی مطلب ہو گا لیکن مجھے یہ خیال آیا کہ اگر میں مسجد پہنچنے سے پہلے پہلے مر گیا تو ایک بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغیر عمل کے رہ جائے گی اس لئے میں گلی میں ہی بیٹھے گیا تا کہ آپ کے حکم پر عمل کرنے کا ثواب حاصل کر سکوں۔یہ ایمان ہے جو صحابہ کے اندر پایا جاتا تھا اور یہی ایمان ہے جو انسان کی نجات کا باعث بنتا ہے۔۔۔، پر تعمیری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم پر سیم کے اسلامی احکام کو قائم کرو اور ایسا نمونہ پیش کرو جو لوگوں کو خود بخود عمل کی تحریک کرنے والا ہو یشیعہ ہو شہتی ہو، کوئی ہو ہر ایک کے پاس جاؤ اور اسے منت سے، سماجت سے ادب سے محبت سے کہو اور بار بار کہو کہ یہ اسلامی حکم ہے میرا انہیں آپ کو اگر حضرت مرزا صاحب سے مخالفت ہے تو کیجئے مخالفت۔اگر احمدیت کو آپ جھوٹا سمجھے ہیں تو کئے جھوٹا مگر یہ حکم شد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے میرا یا کسی او کا نہیں اس لئے اس حکم پر عمل خود آپ کے لئے بھی ویسا ہی ضروری ہے جیسا کہ کیسی اور کے لئے یہی طریقہ ہے جو اسلامی احکام کو قائم کرنے کے لئے تمہیں اختیار کرنا چاہئیے۔تم مسلمانوں سے کہو کہ ہمیں بے شک گالیاں دیجئے ہمیں برا بھلا کہئے مگر یہ حکم ہمار انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اس لئے ہماری خاطر نہیں بلکہ اپنے آقا اور مطاح کی خاطر اس حکم پر عمل کریں " اے کراچی کا شہر اگر بحری شاہراہ پر واقع ہونے کے باعث پاکستان بھر میں ایک سفریش اور خاص امتیاز رکھتا ہے تو پشاور کو درہ خیبر کا دروازہ ہونے کی قدیم تاریخی حیثیت حاصل ہے جہاں سے اُٹھائی ہوئی تحریک کے اثرات پاکستان کے پورے شمال مغربی سرحدی علاقے پر ہی نہیں پاکستان کے ہمسایہ ممالک چینی، افغانستان، ایران اور روس پر بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اسی اہمیت کے پیش نظر کہ اچھی کے بعد پشاور کی سر زمین کو اپنے وجود سے برکت بخشی اور قریباً ایک ہفتہ تک قیام فرما رہے۔له الفضل بار شهادت/ ایریل ۱۳۲۶۵ ۶۷۵۰