تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 308
بھی خوبی نہیں مگر تم بھی ایک بات مان لو اور وہ یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لینے میں ساری خوبی ہے۔بے شک ڈاڑھی رکھنے میں کوئی بھی خوبی نہ ہو مگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی بات مان لینے میں ساری خوبی ہے۔جب محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ڈاڑھی رکھو تم بے شک سمجھو کہ یہ چیز ہر رنگ میں مضر اور نقصان دہ ہے مگر گیا بیسیوں مضر چیزیں ہم اپنے دوستوں کی خاطر اختیار نہیں کر لیا کرتے۔اول تو مجھے ڈاڑھی رکھتے ہیں کوئی ضرر نظر نہیں آتا لیکن سمجھ لو کہ یہ مضر چیز ہے پھر بھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہتے ہیں کہ ڈاڑھی رکھو تو ہماری خوبی آیا اس میں ہے کہ ہم ڈاڑھی نہ رکھیں یا اس میں ہے کہ ڈاڑھی رکھیں۔آخر ایک شخص کو ہم نے اپنا آقا اور سرار تسلیم کیا ہوا ہے جب ہمارا آقا اور سردار کہتا ہے کہ ایسا کرو تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسکے حکم کے پیچھے چلیں خواہ اس کے علم کی ہمیں کوئی حکمت نظر نہ آئے صحابہ کو دیکھو ان کے دلوں میں رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کا کتنا عشق تھا۔ڈاڑھی کے متعلق تو ہم دلیلیں دے سکتے ہیں اور ڈاڑھی رکھنے کی معقولیت بھی ثابت کر سکتے ہیں لیکن صحارض بعض دفعہ ایس تے۔طرح رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی بات شنکر اس پر عمل کرنے کے لئے بے تاب ہو جاتے کہ بظاہر اس کی معقولیت کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تقریر فرما رہے تھے کہ آپ نے کناروں پر کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا بیٹھ بھاؤ حضرت عبداللہ بن مسعود اُس وقت گلی میں سے آرہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ الفاظ ان کے کانوں میں بھی پڑگئے اور وہ وہیں گلی میں میٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر انہوں نے مسجد کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ایک دوست ان کے پاس سے گزرے تو انہیں کہنے لگے عبداللہ بن مسعود تم اتنے معقول آدمی ہو کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میرے کان میں آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ اس پر میں بیٹھ گیا۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب آپ سے تو نہیں تھا انہوں نے تو یہ بات ان لوگوں سے کہی تھی جو مسجد میں آپ کے سامنے کھڑے تھے۔عبد اللہ بن مسعود نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو بے شک