تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 307 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 307

علوم موجود ہیں جود وسری کتب میں نہیں۔پھر یہ کیسی بدقسمتی ہوگی کہ ہمارے گھر میں تو خزانہ پڑا ہو اور ہم دوسروں سے پیسہ پیسہ مانگ رہے ہوں ہمارے گھر میں سونے کی کان پڑی ہو اور ہم دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کر رہے ہوں۔قرآن کریم کی موجودگی میں دوسروں سے علم حاصل کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے خزانہ رکھنے والا دوسروں سے ایک پیسہ مانگنے لگ جائے۔پس قرآن کریم پڑھنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔اس کے لئے کیسی لمبے غور اور شکر کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے ایسے علوم عطا فرمائے ہیں جس سے بہت آسانی کے ساتھ لوگ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ میری کتابیں پڑھیں ان سے بہت جلد وہ قرآنی علوم سے آگاہ ہو جائیں گئے ہیں تیسری بات جس کی میکں جماعت کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے افراد اپنے عمل میں درستی پیدا کریں۔چھوٹی چھوٹی باتیں جن کے چھوڑنے میں کوئی بھی وقت نہیں میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک اپنی باتوں کو ہماری جماعت کے افراد نہیں چھوڑ سکے۔مثلاً ڈاڑھی رکھنا ہے کیں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں جو ڈاڑھی نہیں رکھتے حالانکہ اس میں کونسی وقت ہے۔آخر ان کے باپ دادا ڈاڑھی رکھتے تھے یا نہیں ؟ اگر رکھتے تھے توپھر اگر وہ بھی ڈاڑھی رکھ لیں تو اس میں کیا حرج ہے پھر باپ دادا کو جانے دو سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ڈاڑھی رکھتے تھے یا نہیں۔اگر رکھتے تھے تو آپ کی طرف منسوب ہونے والے افراد کیوں ڈاڑھی نہیں رکھ سکتے مجھ سے ایک دفعہ ایک نوجوان نے بحث شروع کر دی کہ ڈاڑھی رکھنے میں فائدہ کیا ہے۔وہ میرا بیز تھا اور ہم کھانا کھا کر اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔اور چونکہ فراغت تھی اس لئے بڑی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔جب میں نے دیکھا کہ وہ کج بحثی کر رہا ہے تو میں نے اسے کہا میں مان لیتا ہوں کہ ڈاڑھی رکھتے ہیں کوئی فائدہ نہیں۔آخر تم مجھ سے یہی منوانا چاہتے ہو سو یکیں مان لیتا ہوں کہ ڈاڑھی رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔اس پر وہ خوش ہوا کہ آخر اس کی بات تسلیم کر لی گئی ہے۔میں نے کہا میں تسلیم کر لیتا ہوں کہ اس میں کوئی له الفضل وار اپریل ۹۲ائر