تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 303
٣٠٣ تھا۔آپ چونکہ مشرقی پنجاب کے مسلمان بھی اِدھر آپکے ہیں اس لئے اب اتنی فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ حصہ ہماری جماعت کے افراد کا پاکستان میں آچکا ہے اور بوجہ آزاد گورنمنٹ کا ایک حصہ ہونے کے ان پر بھی ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہیں جیسی آزاد قوموں پر عائد ہوتی ہیں۔یہ امرظاہر ہے کہ آزاد قوموں کو جنگ بھی کرنی پڑتی ہے یہ تو نہیں کہ جنگ کے اعلان پر وزیر جا کر لڑا کرتے ہیں یا سیکوٹری جا کہ لڑا کرتے ہیں۔بہر حال افراد ہی لڑا کرتے ہیں اور اگر کسی ملک کے افراد اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھیں تو جنگ میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہوتا ہے کہ افراد میں قومیت کا احساس ہو۔اگر لڑنے والے افراد میں قومیت کا احساس نہیں ہوگا تو لازماً ان میں کمزوری پیدا ہوگی اور یہ کمزوری ان کی کامیابی میں حائل ہو جائے گی۔پس بوجہ اس کے کہ اسی بلکہ پچاسی فیصدی احمدی آزاد اسلامی حکومت میں آگئے ہیں ان کا فرض ہے کہ اب وہ پورے طور پر اپنے اندر تغیر پیدا کریں تا کہ اگر ملک اور قوم کے لئے کوئی خطرہ درپیش ہو تو وہ اس وقت قربانی اور ایشیار کا نمونہ دکھا سکیں اور اس طرح ملک کی کامیابی کی صورت پیدا کر دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی دفاع کے لئے ہر فرد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض بعض انسانوں اور جماعتوں کو لیڈ رہنے کی توفیق عطا کی جاتی ہے۔اگر لیڈر آگے آجاتے ہیں تو ساری قوم ان کے پیچھے چل پڑتی ہے۔اور اگر لیڈر آگے نہیں آتے تو قوم میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ لیڈر بعض دفعہ افراد ہوتے ہیں اور بعض دفعہ قومیں ہوتی ہیں۔وہ قومیں ایسی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں کہ لوگ ہر اہم موقع پر ان کی طرف دیکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ہماری جماعت کی بھی خواہ لوگ کتنی مخالفت کریں اسے ایسی پوزیشن ضرور حاصل ہو گئی ہے کہ لوگ ہماری جماعت کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ اس جستجو میں رہتے ہیں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔اگر آئندہ آنیوالے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری جماعت ہر وقت آمادہ رہے گی اور