تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 291 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 291

٢٩١ گورنمنٹ نہیں کہ انڈین یونین سے اعلانِ جنگ کر سکیں مہم آزا د علاقہ کے بھی نہیں کہ ہم ایسا اعلان کرنے کے مجاز ہوں۔اس لئے اگر جنگ کے ذریعہ ہی ہمارے مرکز کا ملنا ہمارے لئے مقدر ہے تب بھی جنگ کے۔۔۔سامان خدا ہی پیدا کر سکتا ہے ہمارے اندر یہ طاقت نہیں کہ ہم ایسا کر سکیں اور نہ شریعت ہمیں جنگ کی اجازت دیتی ہے شریعیت جنگ کا اختیار صرف حکومت کو دیتی ہے اور حکومت ہمارے پاس نہیں ہیں جنگ سے بھی اسی صورت میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے جب خدا ایسے سامان پیدا فرمائے اور انڈ میں یونین سے کسی اور حکومت کی لڑائی شروع ہو جائے۔بہر حال خواہ مصلح سے ہمارا مرکز نہیں واپس ملے یا جنگ سے دونوں معاملات میں ظاہری تدابیر کام نہیں دے سکتیں صرف خدا ہی ہے جو ہماری مدد کر سکتا اور ہمارے لئے غیب سے نصرت اور کامیابی کے سامان پیدا فرما سکتا ہے۔اگر دلائل کو لو تو دلائل کا اثر بھی خدا تعالیٰ ہی پیدا کر سکتا ہے ورنہ جو نشہ حکومت میں سرشار ہوا اور جیسے اپنی طاقت کا گھمنڈ ہو اس کے سامنے کتنے بھی دلائل پیش کئے جائیں وہ سب کو ٹھکرا دیتا ہے اور کہتا ہے ہم ان باتوں کو نہیں مانتے اور اگر طاقت کو لو تو اول تو بادی طاقت ہمارے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہو بھی اور فرض کرو ہماری جماعت موجودہ تعداد سے پچاس یا سو گئے بھی بڑھ جاتی ہے اور پانچ دس کروڑ تک پہنچ جاتی ہے تب بھی گورنمنٹ ہمارے قبضہ میں نہیں اور ہم شرعی نقطۂ نگاہ سے جنگ نہیں کر سکتے۔گویا ہماری حالت صلح کی صورت میں بھی اور جنگ کی صورت میں بھی کھلی طور پر بعد اتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کو اختیار کرنا ہمارا سب سے پہلا اور اہم فرض ہے۔اگر ہم اپنے اس فرض کو ادا کر لیں تو یقیناً وہ کام جو ہم نہیں کر سکتے تندا اُسے خود پورا فرمائیگا اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ خدائی طاقت اور قوت کی کوئی حد بندی نہیں بندے کی بڑی سے بڑی جد و جہد اور کوشش بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔جب خدا کرنے پر آتا ہے تو باوجود اس کے کہ دنیا ایک کام کو ناممکن سمجھ رہی ہوتی ہے وہ ممکن ہو جاتا ہے۔شام کو وہ اس حالت میں سوتی ہے جب وہ اُسے نا ممکن سمجھ رہی ہو تی