تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 290
۲۹۰ کے مطابق قدم اُٹھانا چاہیئے ہمارے لئے اس وقت ایک ایسا زمانہ آیا ہوا ہے جس میں ہم اپنے مقدس مقام سے محروم ہیں اور دشمن اس پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ہار پہنچنے کے معنے خوشی کی حالت کے ہوتے ہیں۔کہیں جہاں جماعت کو یہ صیحت کیا کرتا ہوں کہ ان کے دیوں میں پژمردگی پیدا نہیں ہونی چاہئیے ، ان کے اندرکم ہمتی نہیں ہونی چاہئیے ، ان کے اندر پست ہمتی نہیں ہونی چاہئیے وہاں میں اس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ جماعت اس صدمہ کو بھول جائے اور ایسی غیر طبعی خوشیاں منانے میں محو ہو جائے جن کی وجہ سے وہ ذمہ داری اس کی آنکھ سے اوجھل ہو جائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد کی گئی ہے۔نمائشی باتیں تو یوں بھی ناپسندیدہ ہوتی ہیں مگر کم سے کم اس وقت تک کے لئے ہمارے نوجوانوں میں یہ احساس زندہ رہنا چاہیئے جب تک ہمارا مرکز ہمیں اپس نہیں مل جاتا۔آخر کوئی نہ کوئی چیز ہو گی جس کے ساتھ نوجوانوں کو یہ بات یاد دلائی جا سکے گی۔اگر ایسے مظاہروں سے نوجوانوں کو روکا جائے تو چونکہ پہلے ہم روکا نہیں کرتے تھے اس لئے قدرتی طور پر ہر احمدی کے دل میں یہ بات تازہ رہے گی کہ میں نے اپنے مرکز کو واپس لینا ہے۔مجھے غیر طبیعی خوشیوں کی طرف مائل نہیں ہونا چاہئیے۔اگر خدانخواستہ ہم بھی غیر طبعی خوشیوں میں محو ہو گئے اور نوجوانوں کو ہم نے یہ محسوس نہ کرایا کہ کتاب صدمہ ہمیں پہنچا ہے تو ان کے اندر اپنے مقصد کے حصول کے لئے جد و جہد اور کوشش کی سچی تڑپ زندہ نہیں رہ سکے گی اس لئے میں سمجھتا ہوں میرے لئے یا کسی اور کے لئے ایسے مظاہروں میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی " سے خطبہ جمعہ کے آخر میں حضور نے ارشاد فرمایا :- ہماری جماعت صلح کی بنیادوں پر قائم ہے اور جہاں تک ہو سکے گا ہم صلح سے ہی اپنے مرکز کو واپس لینے کی کوشش کریں گے۔دوسرے ہمارے ہاتھ میں حکومت نہیں اور جنگ کا اعلان حکومت ہی کر سکتی ہے افراد نہیں کر سکتے۔گویا اس وقت اگر جنگ کا اعلان ہو تو دو ہی حکومتیں کر سکتی ہیں یا انڈین یونین کر سکتی ہے یا پاکستان کر سکتا ہے ہم پاکستان + به الفضل ۳۰ شهاوت را اپریل ها