تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 263
۲۶۳ ه بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ) " جو دوست اپنی خوشی سے اگلی ٹرم میں قادیان ٹھہرنا چاہیں انہیں انجازت دی بھائے۔جزاهم الله خيرا وكان معهم لیکن احتیاطاً حضرت صاحب سے بھی پوچھ لوں گا او پھر اطلاع دوں گا۔آپ نے لکھا ہے کہ مسجد نور میں تین من کے قریب قرآن شریف کے اوراق منتشر پائے گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ اس کے متعلق ڈی سی گورداسپور اور کشتر جالندھر اور وزیر اعظم مشرقی پنجاب اور پنڈت نہرو صاحب نئی دہلی اور گاندھی جی نئی دہلی کو لکھیں کہ مسلمانوں کے نز دیک سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات انکے مذہبی احساسات کو صدمہ پہنچاتا ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمی ارشاد کی عملی توجیہ ہو کہ دشمن کے ملک میں قرآن شریف نہ لے جاؤ۔ڈاکٹر صاحب اور کمپوڈران کی تبدیلی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔اغواء شدہ مسلمان عورتوں کے متعلق جو قادیان کے ماحول میں ہیں پاکستان کے متعلقہ محکمہ کو تو جہ دلائی جارہی ہے کہ وہ اپنا نمائندہ ہندوستان بھیجوائیں۔(۲۸ دسمبر ۱۹) بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے ) مسجد نور میں جو قرآن کریم کے تین مین اوراق پھٹے ہوئے پائے گئے ان کا فوٹو مجھے احتیاط کے ساتھ بھیجوا دیا جائے " (۲۹ دسمبر - ربنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے) " آپ نے فون پر کہا تھا کہ عزیز مرزا ظفراحمد کے مضمون نے لوگوں کو بہت رلایا میں نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ یہاں تو حضرت صاحب نے رونے سے منع کر دیا ہے۔اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ دعا میں رقت کا پیدا ہونا منع ہے۔حضرت صاحب کا منشاء تھا کہ قادیان سے باہر آنے والے احمدی قادیان کی یاد میں رونے کی بجائے اپنے درد اور جوش ے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " تاریخ احمدیت جلد "