تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 226 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 226

۲۲۶ " ابتداء میں۔۔۔یہاں کی پولیس ہمارا دہرا اور مولوی محمد زیدی صاحب فضلی اور خاکسار کا تعاقب کرتی رہتی تھی۔خود ملک کے دارالحکومت بھیسٹن میں متعدد بار راہ چلتے ہمارے پاسپورٹوں کو چیک کیا جاتا تھا اور کوئی نہ کوئی ایسی راہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی جس سے جماعت کی پرامن مذہبی سرگرمیوں کو ختم کیا جاسکے۔چنانچہ شاہ کا ایک رقعہ ہے جس میں یہاں کے ڈسٹرکٹ آفیسر نے جماعت کے مبلغ سے نہایت توہین آمیزر غیر شریفانہ سلوک کیا تھا اور جب سراسر انسانیت سوز سلوک پر حکومت سے احتجاج کیا گیا تو اُس وقت کے گورنرنے جو نہایت متعصب اور عدو اسلام عیسائی تھا با وجود اس وعدہ کے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کر کے بہت جلد جواب دے گا اس نے اس احتجاج کا جماعت کو آخری وقت تک کوئی جواب نہ دیا۔حکومت کے اس سربراہ اور بعض دوسرے افسروں کے اس معاندانہ رویہ کی وجہ سے ہمارے لئے ناگزیر ہو گیا کہ ہم بہت ہی حزم واحتیاط سے اپنا کام کریں تاکہ دشمن کو کسی ایسے فتنہ کے پیدا کرنے کا موقع نہ ملے جس سے جماعت کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہو یا جس سے جماعت کی مذہبی سرگرو میاں کلیئہ ختم ہو جائیں۔اس وقت کے حالات میں کسی ایسے نئے علاقہ میں جانا جس کی فضا سے سرا سرنا آہی ہوا اور جہاں نہ قیام کی جگہ او نہ کوئی واقف کا ہو بالاتفاق۔۔۔نامناسب سمجھا گیا۔اُس کے بعد بفضلہ تعالی حالات آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگے مولوی محمد زیدی صاحب تو ۱۲- اعضاء / اکتوبر کو انڈونیشیا کی طرف منتقل ہو گئے اور میشن کا چارج مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے لیا۔۶۱۹۵۰ ر امان از مارچ کو مولوی محمد سعید صاحب انصاری ینگ کونگن اسٹیٹ میں دو سے اب ان سے انگ انگلی سیٹ کے دورہ پر تشریف لے گئے لایوان لینگ کو چونکہ اسٹیٹ کے مینجر نے آپ کو اسٹیٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی اس لئے آپ نے اس کی حدود سے باہر ایک ہفتہ تک ایک احمدی دوست کے گھر قیام رکھا اور گردو نواح کے را کے وکے احمدیوں کی تربیت و اصلاح کی۔اس دورہ کے بعد اسٹیٹ میں احمدیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔چنانچہ جب آپ ماہ له مکتوب مولوی محمد سعید صاحب انصاری کرده در صلح جنوری هم از لایوان /