تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 194
۱۹۴ ہیں جو اپنے خیالات سے اختلاف رکھنے والوں کو کافر اور دائرہ مذہب سے خارج قرار دیتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ہیوبن نے اپنے مضمون میں گیارہ نکات ایسے بیان کئے ہیں جو اُن کے خیال میں احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کے درمیان مابہ النزات ہیں لیکن اُن کی یہ بات بھی ایسی ہی ہے جیسے کیتھولک مکتب فکر کی موجودہ مغالطہ انگیز شکل ہے۔احمدیہ جماعت کو اسلام سے منحرف دن اُس وقت قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ وہ قرآنی تعلیمات سے روگردانی کرے مگر جماعت احمدیہ کا تو یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔نیز یہ کہ اگر کہیں یہ محسوس ہو کہ ایک آیت کسی دوسری آیت کی مخالف ہے تو وہاں پر وہ تضاد کسی غلط تشریح کی وجہ سے پیدا ہوا ہو گا یے (ترجمہ) یورپین پادریوں نے اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ کوم کیتھولک سنٹر کو دعوت مقابلہ کے نورانی چرہ کو بگاڑ کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مشہور ڈچ مستشرق سی۔ایں۔ہر خون سے (CS - HUR GROWN TE ) محمد ازم" میں کا لکھتے ہیں " ہر وہ بات جو اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے اختیار کی جاتی یا گھڑی جاتی تھی یورپ ایک لانچی اور حریص آدمی کی طرح اسے اچک لیتا تھا حتی کہ ازمنہ وسطیٰ میں ہمارے آباد و اعداد کے ذہنوں میں حمد کا جو تصور قائم تھا وہ آج ہمیں ایک انتہائی طور پر مکروہ اور گھناؤنی شکل کے مترادف نظر آتا ہے: (ترجمہ) اس سلسلہ میں صدیوں سے خاص طور پر یہ اعتراض وسیع پیمانہ پر پھیلایا اور مہرنسل میں اچھی طرح راسخ کیا گیا کہ اسلام تلوار کا مذ ہب ہے۔ہالینڈ رشن نے ٹیلی ویژن ، ریڈیو، اخبارات کے انٹرویو اور اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ اس جھوٹ کی خوب قلعی کھولی ہے کے مگر متعصب پادری ہیں کہ آج تک یہ منہ الطہ دیئے جا رہے ہیں سے بحوالہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت ملا دینا - لیکچر صاجزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل الاعلى ووكيل التبشير بر موقعه جاسہ سالانہ ر ہ سے ڈاکٹر دیونگ (بیگ نے حافظ قدرت الله صاحب کی کتاب (WHAT IS ISLAM ) کے دیباچہ میں لکھا :- اسلام کے بارے میں یہاں لوگوں کو بہت ہی کم صیحیح معلومات مہیا ہوئی ہیں۔مثال کے طور پر ہم باریا پڑھتے ہیں کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنا مذہب تلوار کے ذریعہ پھیلائیں لیکن اس کے برعکس قرآن کریم (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)