تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 169 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 169

144 اس ترجمہ کی نظر انداز نہ ہونے والی خصوصیت یہ ہے کہ اسے پیار ڈھ زبان دانوں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے جنہوں نے انتخاب الفاظ میں نہایت ہی اعلیٰ معیار پیش نظر رکھا ہے۔اس کی زبان واضح اور سادہ ہے مگر قابل قدر اور اعلیٰ۔اس ترجمہ کے لئے جماعت احمدیہ مرکزیہ کی طرف سے ۱۹۴۶ء میں شائع ہونے والے انگریزی ترجمہ کو بطور بنیاد رکھا گیا ہے اور ترجمہ کے دوران میں مسلمان عربی دانوں کے ساتھ خاص طور پر مشورہ کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے اصل متن کو قابل اعتبار طور پر ترجمہ میں پیش کیا گیا ہے۔ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جہاں تک ایک مشرقی زبان کے متن میں اتحاد ہو سکتا ہے۔اس ترجمہ کا دوسرے تراجم سے کوئی اُصولی فرق نہیں ہے اس لئے اس کا پرانے تراجم کے ساتھ ملانا اور بھی دلچسپی کا باعث ہوگا۔جو ترجمہ ۱۹۳۷ء میں قرآن فنڈ جماعت احمدیہ انڈونیشیا کے کہنے پر بیٹا و یہ دعا کرتا، میں VISSER کی طرف سے شائع ہوا تھا وہ ایک کمیشن نے کیا تھا جس میں مسٹر سو دیوو بھی شامل تھے۔اس کے ساتھ ایک دیباچہ اور مولانا محمد علی صاحب کے نوٹس بھی شامل ہیں۔اس ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والے پورے طور پر ڈچ زبان نہیں جانتے تھے اس وجہ سے نیا ترجمہ بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اس میں الفاظ مختصر ، زیادہ قابلِ فہم اور صحیح تر ہیں شورتوں کے فقرات میں جو تعلق اور بندش تھی اسے بھی قائم رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مختلف آیات ایک مجموعہ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔اسی طرح الفاظ کا انتخاب بھی نمایاں طور پر بہتر ہے۔آیتوں میں یہ نسبت بٹا ویہ میں چھپنے والے ترجمہ کے زیادہ سلامت ہے۔یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ پہلی بار اس ترجمہ میں ہی خدا کا نام 600 کی بجائے اللہ پیش GOD کیا گیا ہے۔گزشتہ تراجم میں لفظ 600 ہی استعمال ہوتا رہا ہے۔مسٹر سودیو کے ترجمہ میں عیسائیت کے اثر کی وجہ سے پرانے عہد نامہ کی طرز پر کلام کو اختیار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مقامات ہماری توجہ کو زبور کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہیں یا بائبل کے دوسرے ترجمہ کے مطابق گزشتہ انبیاء کی طرف جیتی که شار