تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 151
101 حصہ کے چند صفحات کو لے کر گھر لوٹی اور ان کا بنظر غائر مطالعہ کیا۔اس ترجمہ کا میری طبیعت پر بہت برا اثر ہوا۔مترجم نے قدیم ڈچ زبان میں جس کو آج کل سمجھنا بھی مشکل ہے ترجمہ کیا ہوا تھا۔اور پھر اس کا انداز بھی کوئی اچھا نہ تھا اس لئے میکس نے ترجمہ کرنے سے انکار کر دیا میرے لئے یہ کام اس وجہ سے بھی مشکل تھا کہ میری پیدائش اور تربیت عیسائی ماحول میں ہوئی تھی جس میں میرے سے گناہ کا تصور ہی بالکل اور ہے۔یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ حضرت سیورع ہمارے گناہوں کی خاطر مصلوب ہو گئے قرآن کریم کی تعلیمات میرے لئے صدمہ کا موجب ہوئیں کیونکہ قرآن کریم میں اعمال پر بہت زور دیا گیا ہے اور گناہوں کی پاداش میں سرا کا بھی ذکر ہے اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کا ترجمہ کر نا میرے لئے محال تھا۔آخر یہی سوچ اور گہرے غور کے بعد میں نے اس مبارک کام کو سر انجام دینے کا فیصلہ کیا اور میں نے دفتر کے ڈائر یکٹر سے تمام قرآن کا ترجمہ اپنے طرز اور موجودہ ڈچ زبان میں کرنے کی اجاز لے لی۔میں نے اس کام کو سرانجام دینے کے لئے دن رات ایک کر دیا اور ابتدائی ۳۰) یم صفحات کا ترجمہ کر کے میں ڈائریکٹر کے پاس لے کر گئی۔اس موقعہ پر اس امر کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ جب میں ڈائریکٹر کو ملنے گئی تو ہماری قرآن کریم کے متعلق طویل گفت گو ہوئی۔ڈائریکٹر نے اس مقدس کتاب کے متعلق نہایت ہی توہین آمیز کلمات استعمال کئے، بعد میں بھی اس کا رویہ یہی رہا اور اس نے وہاں کئی بار متواتر اور سلاسل قرآن کریم کی تو ہین جاری رکھی جن کا میری طبیعت پر بہت ناگوار اثر ہوا لیکن جلد ہی جب میں دوبارہ اسے ملنے گئی تو میں نے اسے نہایت ہی المناک کیفیت میں پایا۔اسے LAMBA GO کا شدید حملہ ہوائیں نے اسے فوری طور پر گھر پہنچانے کا انتظام کیا جہاں اگلے ہی روز وہ پل لیسا چند روز بعد دوسری ڈائریکٹریس بھی جس نے اس گفت گو میں حصہ لیا تھا بیمار ہوئی اور اس مقدس کتاب کی توہین کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ بچ سکی اور ہسپتال میں اِس جہان سے رخصت ہو گئی۔ان واقعات نے میری طبیعت پر گہرا اثر کیا لیکن ابھی خدا تعالیٰ نے اِس مقدس کتاب کی صداقت کو میرے قلب پر اور منقوش کرنا تھا۔خدا تعالی کا کرنا ایسا ہوا کہ ان واقعات