تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 150 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 150

۱۵۰ جو مجھ پر اثر کر نے والی ہوئی وہ ایک طبعی ایمان اور سچی با داری ہے جو یہی محبت سے پیدا ہو کر قادیان کو رسولوں کی سی ایک فضا بخش رہی ہے جو عیسائی حلقوں میں شاذ و نادر ہے۔آپ کے فاضل ذوالفقار علی خاں صاحب (ناظر اعلیٰ ) نے (جن کے ساتھ مجھے خاص محبت حاصل ہوگئی ہے ، جو کتب مجھے عطا فرمائی ہیں ان کے پڑھنے کے بعد پھر آپکو اطلاع دوں گا یہ ہے مولانا عبد الرحیم صاحب ورد کی انگلستان سے مراجعت کے بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس کے قیام لنڈن کا زمانہ آتا ہے جو ہالینڈ میں احمدیت کی داغ بیل کے اعتبار سے ایک شہری کار ہے جس میں دوسری یوروپین زبانوں کے تراجم کے علاوہ ڈرح ترجمہ قرآن بھی آپ کے زیر نگرانی مکمل ہوا۔اس ترجمہ کی سعادت ایک ولندیزی خاتون مستر زمرمان کے حصہ میں آئی جوڈچ کے علاوہ انگریزی اور جرمن زبان کی بھی ماہر ہیں اور ایلی پر بھی ایک حد تک عبور رکھتی ہیں۔اس خاتون نے اس مقدس فریضہ کی بجا آوری کے دوران صداقت اسلام کے بعض قهری نشان دیکھے اور بالآخر اللہ کے فضل اور احمدی مبلغوں کی مساعی جمیلہ کے نتیجہ میں داخل اسلام ہوگئیں اور آج تک نہایت خلوص سے ہالینڈ میں متبعین اسلام کے دوش بدوش شاندار اسلامی خدمات بجالا رہی ہیں مسر ناصرہ زمرمان ( N ZIMMER MAN ) نے اپنے قبول اسلام کی ایمان افروز سرگزشت اپنے قلم سے لکھی ہے جس کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔ہ کا سال میرے لئے تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔اس سال کے شروع میں میں بمباری سے مسمار شدہ لنڈن میں پہنچی ہی تھی کہ مجھے ایک ترجمہ کرنے والے محکمہ TRANSLATION) BUREAU کی طرف سے ملاقات کے لئے پیغام ملا مجھے بتایا گیا کہ یہ ملاقات قرآن کریم کے ڈچ ترجمہ کے سلسلہ میں ہے۔مجھے آخری تین سو صفحات کا ترجمہ کرنے کے لئے کہا گیا اس پر مجھے خواہش پیدا ہوئی کہ کہیں یہ دیکھوں کہ پہلے حصہ کا ترجمہ کیسا ہوا ہے ؟ میں پہلے + ه الفضل و مٹی سے مٹ کالم ۳ سے لنڈن میشن کی رپورٹوں سے پتہ چاہتا ہے کہ مولا خموش کی نے لندن پہنچنے کے بعد ڈچ باشندوں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری کر دیا تھا۔چنانچہ آپنے اپنے قیام انگستان کے پہلے سال ہالینڈ، جرمنی اور سویڈن کے سکولوں کی ہائی کلاسز کے قریبا ستر طلباء کو ایک تقریب پر مدعوکیا در پورٹ سالانه صدر انجمن احمدیه قادیان ۳۱- ۱۹۳۸ ۵۵ ) :