تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 148 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 148

۱۴۸ احمدیہ فصل پنجم سلام مشن ہالینڈ کا قیام تبلیغی نقطہ نگاہ سے ہالینڈ نہایت درجہ اہمیت رکھتا ہے یہی وہ ملک ہے جس نے تین سو چا پس اے له تک جزائر شرق الہند کے دس کروڑ باشندوں پر حکمرانی کی ہے۔ان باشندوں کی بھاری اکثریت مسلمان ہے اور ان کا ایک حصہ ہالینڈ میں ہی مستقل بود و باش اختیار کر چکا ہے۔اس ملک کا تعلق جنوبی امریکہ کی بعض تو آبادیات سے بھی ہے جہاں مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہالینڈ کی لائیڈن یونیورسٹی (LEIDEN UNIVERSITY) مشرقی علوم کے " مغربی مرکز کی حیثیت سے نہ صرف پورے یورپ بلکہ دنیا بھر میں بہت مشہور ہے اور علمی دنیا میں ایک نمایاں اور متاز مقام رکھتی اور بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔لہذا یہاں کے مستشرقین کو حقیقی اسلام سے روشناس کرانے سے یورپ کے اونچے علمی طبقوں میں زبر دست انقلاب آسکتا ہے اور اسلام کی روحانی فتح سے دروازے کھل سکتے ہیں۔اگر چہ ہالینڈ سے انڈونیشی مسلمانوں کے ایک عرصہ سے تعلقات چلے آرہے تھے اور ایک بڑی تعداد اس میں مقیم ہوگئی تھی لیکن اتنے لمبے زمانہ میں یہاں اشاعت اسلام کی کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی گئی حتی کہ کسی مسلمان کو یہ خیال تک نہیں آیا کہ اپنی مرکزیت کو برقرار رکھنے اور خدائے واحد کا انڈونیشیا شرق الہند کے اس مجمع الجزائر کا دوسرا نام ہے جو سترھویں صدی عیسوی کے آغاز سے لیکرٹ تک ہالینڈ کے مقبوضات میں شامل رہا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی فوجوں نے ولندیزی فوجوں کو زیر کر کے ان جزائر پر قبضہ جمالیا شاہ میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے تو ملک میں تحریک آزادی اٹھ کھڑی ہوئی اور آخر بڑی کشمکش کے بعد حکومت ہالینڈ نے ریاست ہائے متحدہ انڈونیشیا کی آزادی تسلیم کر لی اور آزاد انڈونیشیا کے ساتھ اتحادہ اشتراک عمل کا ایک پختہ معاہدہ طے کر لیا تیں کی رو سے ہالینڈ اور انڈو نیش یا تابع ولندیزی کے دو مساوی رتبہ ملک قرار پائے۔ان ملکوں نے ملکے کیا کہ خارجہ امور دفاع اور اہم اقتصادی معاملات میں دونوں ملک باہمی مشورہ سے پالیسی طے کیا کریں گے ( تاریخ اقوام عالم از جناب مرتضی احمد خان میکش صفحه ۷۹۴-۷۹۵) :