تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 143
حاصل کرنے کے لئے بن گئے ہیں خود ایک ایسے گروپ سے تعلق رکھتا ہوں جو ہر ہفتہ عربی تعلیم کے حصول کے لئے جمع ہوتا ہے۔۔ہم نے عربی کی تعلیم کی بنیاد کے طور پر قاعدہ لیترنا القرآن کو استعمال کیا ہے جو پاکستان میں طلبہ مدارس کے لئے ابتدائی کتاب کے طور پر استعمال ہوتا ہے بڑی مشکل کے بعد اپنے استاد باجوہ صاحب کی راہ نمائی میں جو ہم سے ناقابل یقین محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں اس قاعدہ کو ختم کر دیا ہے ہم اب قرآن کو گرام اور گفت اور محاورات کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔اس حاصل کئے ہوئے علیم کو استعمال کرنے اور ان ممالک اور ان کے لوگوں کو دیکھنے کے لئے ہم میں سے تین اب تک مشرق وسطی کی سیاحت کر چکے ہیں انہوں نے ان ممالک کو اپنی توقعات سے بڑھ کر پایا۔میں خود بھی ارادہ رکھتا ہوں کرکیسی مناسب موقع پر مسلم ممالک دیکھوں نے (۴) ہز ایکسی لنفیسی سید توفیق عبد الفتاح سفیر جمہوریہ متحدہ عربیہ نے ایک الوداعی دعوت میں (جو ان کے اعزاز میں جماعت احمدیہ زیورج کی طرف سے دی گئی، تقریر کرتے ہوئے کہا :- " سوئٹزرلینڈ میں میرے پہلے سال کے قیام کے دوران مجھے زیورک میں مسجد کا علم نہ تھا اسکے بعد مجھے ایک لبنانی ڈاکٹر سے مسجد کا علم ہوا اور اُن کی تحریک پر ہم عید الاضحی کی تقریب میں شریک ہوئے اس کے بعد لیکن آتا رہا اور امام مسجد نے ہمیشہ مجھے خوش آمدید کہا۔یہاں ہمیں بہت سے سوئیں مسلمانوں اور دوسرے مسلمانوں سے تعارف کا موقعہ ملائین کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں اور صحیح رابطہ قائم ہو چکا ہے جب بھی امام نے مجھے بلایا میں نے کبھی آنے میں قاتل نہیں کیا۔میں امام کی سرگرمی عمل کو شدت سے محسوس کرتارہا ہوں اور اس مجلس میں اس تاثر کے اظہار سے مجھے خوشی ہے۔امام ایک پھر آپ کے اس پر تپاک خوش آمدید کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں اور یں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کبھی مجھے بھولے نہیں جب بھی مجھے قاہرہ بجانے کا موقعہ ملا یکن آپ کا ذکر کرتا رہا۔الازہر کے امام سے کئی دفعہ آپ کے متعلق بات ہوئی اور میں نے انہیں آپ کے مشن کی کارگزاری سے آگاہ کیا۔ابھی گزشتہ رمضان میں میں قاہرہ میں ا ترجمه المفضل ۲۸ وفار جولائی ۱۳۳۲۲۵ ص۳* طر + 51970