تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 108 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 108

1۔A مہدی کافروں کا تلوار سے قلع قمع کرے گا۔ان کے عقیدہ کے مطابق حضرت شیخ صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ مطلب سے زندہ اُترے اور پھر مریم عیسی کے ذریعہ سے شفاء پائی اور بعد میں کشمیر گئے اور سرینگر میں فوت ہوئے۔یہ بات غلط ہے کہ قرآن کریم معجزات کا قائل نہیں بلکہ قرآن کریم پورے یقین کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔اور امام جماعت احمدیہ نے دیگر امور کے علاوہ نبی کریم کی پیش گوئیوں کو بھی معجزات قرار دیا ہے۔ہاں قرآن کریم اس قسم کی بجاہلانہ باتیں نہیں کہتا کہ محمد رسول اللہ حقیقی مُردے زندہ کیا کرتے تھے یا سورج اور چاند کی رفتار کو ٹھرا دیا کرتے تھے یا پہاڑوں کو چلایا کرتے تھے ، یہ تو بچوں کی کہانیاں ہیں۔ان باتوں کو قرآن کریم نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے اور نہ کسی اور نبی کی طرف بلکہ اگر پہلی کتب میں اس قسم کی باتیں استعمال ہوئی ہیں تو قرآن کریم ان کی تشریح کرتا ہے اور تاتا ہے کہ یہ باتیں محض استعارہ استعمال ہوئی ہیں اور لوگوں نے انہیں حقیقی رنگ دینے میں غلطی کی ہے میخ کی الوہیت اور ان کی طرف خدائی قوتوں کو منسوب کرنے کا بھی جماعت احمدیہ نے رد کیا ہے۔جماعت احمدیہ اس بات کو بھی پیش کرتی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائرۂ رسالت میں حضرت موسی اور حضرت عیسی کی تعلیمات کے برعکس تمام دنیا کو مد نظر رکھا۔ان کی تعلیمات میں حضرت موسی کی تعلیمات اور حضرت عیسی کی نرمی اور بردباری اور محبت کی تعلیمات کامل طور پر موجود ہیں۔وہ دشمنوں سے ضلع کرنے اور اہلی زندگی کے لئے بالخصوص عالمگیرا اور کامل مثال ہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ انہوں نے قرآنی مسیح (حضرت عیسی علیہ السلام) کے خلاف کبھی نہیں لکھا کیونکہ خدا تعالیٰ کے نیچے نبی تھے بلکہ جہاں جہاں انہوں نے مسیح پر حملے کئے ہیں وہاں انجیل کے میسج پر انجیل کی تعلیمات کے مطابق الزامات لگائے ہیں جیسے وہ دنیا کا نجات دہندہ اور خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔اگر نجات بیح کے دامن سے ہی وابستہ ہے تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ جو انبیاء اور راست باز لوگ مسیح سے پہلے گزرے ان کی نجات کیسے ہوئی جبکہ یے پر ایمان نہیں لائے تھے۔اسلام اب عیسائیت کے خلاف زور سے حملہ آور ہے اور احمدیت کے مرکز میں یہ پروپیگینڈا پورے زور سے جاری ہے۔اور یہ امر عیسائی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔(ترجمہ) (6) ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب ماضی منیجر مدارس دینیہ مصر نے جو میں ترجمہ قرآن کے متعلق مندرجہ