تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 178
144 میں ڈال رہے ہیں۔آپ قادیان کو فوراً خالی کر دیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم قادیان میں تین اصول کو مدنظر رکھ کو ٹھہرے ہوئے ہیں۔اول مومن کو خدا تعالیٰ کی مدد سے آخر وقت تک مایوس نہیں ہونا چاہیے۔جب تک ہم کو پکڑ کر نہیں نکالا جاتا ہمیں کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا کی مشیت اور خدا کا فیصلہ کیا ہے۔اس لئے احمدی وہاں ڈٹے رہیں گے تاکہ خدا تعالیٰ کے سامنے ان پر یہ محبت نہ کی جائے کہ خدا کی نصرت تو آرہی تھی تم نے اس سے پہلے کیوں مایوسی ظاہر کی۔دوسرے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے احمدیوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ہندوستان یونین کے دعووں کی آزمائیش کریں گے اور یہ حقیقت آشکار کر کے چھوڑیں گے کہ جب وہ کہتے ہیں کہ کسی کو ہندوستان یونین سے جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا تو وہ سچ کہتے ہیں یا گھوٹ احمر منی بچاہتے ہیں کہ انہیں بھی معلوم ہو جائے اور دنیا کو بھی معلوم ہو جائے کہ ہندوستان یونین کے وزراء بھوٹے ہیں یا پیچھے۔بے شک احمدیوں کو وہاں ٹھہرے رہنے میں قربانی کرنی پڑے گی لیکن ان کے وہاں ٹھہرے رہنے سے ایک عظیم الشان حقیقت آشکار ہو جائے گی یا تو دنیا کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہندوستان یونین کے افسر نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ اپنے ملک میں امن قائم رکھنا چاہتے تھے اور یا دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ وہ منہ سے کچھ اور کہتے تھے اور ان کے دلوں میں کچھ اور تھا۔کیونکہ قادیان سے احمدیوں کا نکالا جانا ایک فوری واقعہ نہیں تھا کہ جس کی اصلاح ان کے اختیار میں نہیں تھی۔قادیان پر حملہ ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ سے پھیلا آرہا ہے۔اس کے علاوہ خود میں نے پنڈت جواہر لال صاحب نہرو سے باتیں کیں اور ان کو اس طرف توجہ دلائی پنڈت جواہر لال صاحب نہرو نے مجھے یقین دلایا کہ سہندوستان یونین ہرگز مسلمانوں کو اپنے علاقہ سے نکلنے پر مجبور نہیں کرتی۔انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ تین چار دنوں تک وہ فون اور تار کے راستے کھلوانے کی کوشش کرینگے اور دو ہفتہ تک قادیان کی ریل گاڑی کے بھاری کروانے کی کوشش کریں گے حمدیہ جماعت کا وفد سردار بلد یوسنگھ صاحب سے بھی ملا اور انہوں نے اصلاح کی ذمہ واری کی اور یہانتک کہا کہ وہ خود قادیان بجا کر ان معاملات کو درست کرنے کی کوشش کریں گے۔احمدیہ جماعت سلے حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو