تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 71
کر کے چلتے تو تلاشی کی خاطر ریلوے لائن کے قریب کھلے میدان میں ان کو روک دیا جاتا۔پھر اس بری طرح ایک ایک چیز کو کھولا اور بکھیرا جاتا کہ باقی بچی کچھی اشیاء کا سمیٹنا بھی سخت مشکل ہو جاتا۔خاص کو اس لئے کہ عام طور پر صرف مستورات اور بیچے جا رہے ہوتے مردان کے ساتھ نہ ہوتے۔اس طرح اس قدر دیر ہو جاتی کہ قافلہ روانہ نہ ہو سکتا اور اسی جگہ عورتوں اور بچوں کو ایسی حالت میں رات گزارتی پڑتی جبکہ ایک طرف غنڈے سکھوں اور ملٹری و پولیس سے شدید خطرہ میں گھرے ہوتے اور دوسر کا طرف بھوک پیاس اور دن بھر کی کوفت سے نڈھال ہو رہے ہوتے اس قسم کے دو قافلے مجھے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔ہمارے نو جوانوں نے ان گرفتاران مصیبت کو کھانا اور پانی پہنچانے کی پوری کوشش کی اور خدا تعالیٰ نے خاص فضل یہ گیا کہ ان دونوں قافلوں کے ساتھ مسلمان ملٹری جن میں ہمارے احمدی نوجوان بھی شامل تھے کافی تعداد میں کافی اسلحہ کے ساتھ موجود تھی اور اس نے حفاظت کا پورا پورا حق ادا کیا۔آخری قافلہ جس میں ہزاروں عورتیں اور بچے شامل تھے بہت بڑا قافلہ تھا اور انچارج ایک نہایت فرض شناس انگریز افسر تھا۔اس کے قافلہ کے دس ٹرک غیر سلم پناہ گزینوں کو گورداسپور نے کر گئے تھے اور ان کو حکم تھا کہ گورداسپور سے تعالی ٹرک لے کو بڑے کنوائے کے ساتھ قادیان آملیں تاکہ ان پر بھی قادیان سے عورتوں اور بچوں کو سوار کرایا جائے۔لیکن جب ٹرک وقت مقررہ کے بعد بھی قادیان نہ پہنچے تو مذکورہ بالا فرض شناس انگریز خود جیپ کار پر سوار ہو کر گورداسپور گیا اور وہاں سے خالی ٹرک ساتھ لے کر قادیان پہنچا۔معلوم ہوا کہ گورداسپور کے افسر خالی ٹرک واپس نہیں آنے دیتے تھے بلکہ وہاں سے ہی لوگوں کو سوار کر کے بھیجنا چاہتے تھے۔مگر اس انگریز افسر کی کوشش کامیاب ہوئی اور وہ اپنے ساتھ خالی ٹرک لے کرق دیان پہنچا اور ان پر عورتوں اور بچوں کو دوسرے دن سوار کرایا۔تقادیان کے حالات پونکہ اُسے بھی بیحد خطرناک نظر آرہے تھے۔ہر طرف تب ہی و بربادی پھیلی ہوئی تھی۔سکھوں کے مسلح جتھے ادھر اُدھر منڈلا رہے تھے بلڑی اور پولیس بھی قابل اعتماد نظر نہ آتی تھی۔اس لئے اس نے ضروری سمجھا۔کہ ہزاروں عورتیں اور بچے جن کی حفاظت کا قرض اس پر عائد ہو چکا ہے۔ان کی حفاظت اور سلامتی کے لئے ہر مکن