تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 70
کرنی شروع کر دیں اور بات بات میں مداخلت کرنے اور خبر دوستم کا مظاہرہ کرنے پر تل گئی۔ایک دن جبکہ انتظام کے ماتحت ہمارے اپنے دس بارہ ٹرک احمدی عورتوں کو لے جانے کے لئے آئے ہوئے تھے۔بعورتیں اور بیچتے ان میں سوار ہو چکے تھے کہ ملٹری نے محکم دے دیا کہ آدھے ٹک فوراً خالی کر دیئے بھائیں۔ان میں ہم اپنی مرضی سے لوگوں کو سوار کرائیں گے۔اس پر جب صدائے احتجاج بلند کی گئی تو ہندو مری نے سب لڑکوں پر قبضہ کر کے نہایت بیدردی اور سفاکی سے پردہ دار عورتوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر پھینک دیا۔اور اس طرح ٹرک خالی کر کے لے گئی۔ملڑی کے اس طریق عمل سے نہ صرف سلسلہ کے انتظام کے ماتحت اور احمدی ملٹری افسروں کی حفاظت میں آئے ہوئے ٹرکوں میں سوار ہونے سے احمدی خواتین اور احمدی بچے رہ گئے بلکہ کئی ایک کو چوٹیں بھی آئیں اور تھوڑا بہت سامان جو اُن کے ساتھ تھا وہ برباد ہو گیا۔پھر حکومت کی طرف سے تو اس قسم کے اعلانات کئے جا رہے تھے کہ پناہ گزینوں کی نہ تو تلاشی لی جاتی ہے سوائے اسلحہ کی تلاشی کے اور نہ ان سے کوئی اسباب چھینا جاتا ہے لیکن قادیان میں اس تشدد اور سختی سے ایک ایک بہتر اور ایک ایک تھنک کھول کر دیکھا بہاتا اور چھان بین کی جاتی کہ کوئی کام کی چیز باقی نہ رہ جاتی اور اس میں اتنی سرگرمی اور انہماک کا اظہار کیا جاتا کہ کئی بار تھوڑے تھوڑے لڑکوں کو محض اس لئے رات بھر وہیں رکھنا پڑا کہ ان کی تلاشی ختم نہ ہو سکی۔اس طرح عورتوں اور بچوں کو نہ صرف ساری رات کھلے میدان میں خوف و خطر کے اندر پڑے رہنا پڑا بلکہ کھانے پینے اور حوائج ضرور یہ پورا کرنے میں بھی انتہائی تکلیف اُٹھانی پڑتی۔عورتیں اور بچے صبح کے ۴ - ۵ بجے لڑکوں پر سوار ہونے کے لئے گھروں سے نکل کو مقررہ جگہوں پر جمع ہونے شروع ہو جاتے اور پناہ گزینوں کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے بڑی مشکلوں سے منتظمین جن میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے صاحبزادگان ہوتے سوار کرا سکتے۔ابتدائی ایام میں دھوپ میں کافی حدت تھی۔جب عورتیں بچے لڑکوں میں کھچا کھچے پھر جاتے تو پھر ٹرک ملڑی کے احکام کی انتظار میں دھوپ میں کھڑے رہتے۔آخر خدا خدا