تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 69 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 69

44 ہے تو وہ بادل ناخواستہ قادیان سے باہر بجانے پر آمادہ ہو سکیں۔چونکہ خواتین اور بچوں کو محفوظ طریق سے باہر بھیجنے میں سخت مشکلات درپیش تھیں۔ذرائع آمد و رفت بالکل مفقود تھے اور راستہ کے خطرات بے شمار ، سرکاری حفاظت میں لاریوں اور ٹرکوں کا ملتا نہایت دشوار تھا۔ان حالات میں تجویز یہ کی گئی کہ جوں جوں لڑک میتر آتے جائیں۔پہلے بیمار، کمزور اور گود میں بچہ رکھنے والی عورتوں کو ، لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کو بھیجا جائے۔اس کے لئے محلوں کے پریڈیڈ نٹوں سے فہرستیں طلب کی جائیں اور آمدہ لڑکوں میں گنجائش کے مطابق نہایت چھان بین اور غور و خوض کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنے دستخطوں سے ٹکٹ جاری فرماتے اور ساری ساری رات اپنے عملہ سمیت اس کام میں مصروف رہتے۔اس کا اندازہ مجھے اس سے ہوا کہ پہلی دفعہ میرے گھر کی مستورات کا ٹکٹ رات کے قریباً دو بجے پہنچا مگر بارش کی وجہ سے سوار نہ کر دیا جا سکا۔دوسری دفعہ بھی ٹکٹ رات کے بارہ بجے کے بعد پہنچا۔جب چند ڈک پہنچتے تو ان کی واپسی کے انتظامات شروع کر دیئے جاتے اور روزہ بروز نازک سے نازک تر ہوتے جانے والے حالات کے پیش نظر اس بات کی انتہائی کوشش کی جاتی کہ زیادہ سے زیادہ عورتوں اور بچوں کو بھیجا جا سکے۔اس وجہ سے کم از کم اور نہایت ضروری سامان عام طور پر پہننے کے کچھ کپڑے اور ایک آدھ بستر لے جانے کی تاکید کی جاتی چونکہ ارد گرد کے دیہات کے بے شمار پناہ گزین بھی جمع تھے اور وہ ٹرکوں میں سوار ہونے کے لئے بے تحاشہ یورش کر دیتے تھے۔اس لئے جن کو ٹکٹ دیئے جاتے ان کا سوار ہونا بہت مشکل ہو جاتا اور انتظامات میں بہت گڑ بڑ پیدا ہو جاتی۔اس کے علاوہ مسلح ملٹری کی دخل اندازی مشکلات کو انتہا تک پہنچا دیتی۔مگر باوجود اس کے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایڈ اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریعت اسحمد صاحب کے صاحبزادگان ہر قسم کی مشکلات پر غالب آنے اور خواتین کو سوار کرانے کے لئے بذات خود نہایت تندہی سے مصروف ہوتے۔اس طرح یہ نہایت مشکل کام سر انجام پا سکتا تھا۔لیکن جہاں دوسرے پہلوؤں سے لڑی اور پولیس کا ظلم و تشدد بڑھتا گیا۔وہاں خواتین کی روانگی میں بھی مری نے انتہائی مشکلات پیدا