تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 58
فرمایا جو " الفضل (پاکستان) کے پہلے شمارہ میں شائع ہوا۔یہ مضمون جو بدلے ہوئے حالات میں پاکستانی احمدیوں کے لئے دستور العمل کی حیثیت رکھتا تھا اور نہایت واضح اور قیمتی ہدایات پشتل تھا بجنسہ درج ذیل کیا جاتا ہے :- -- اگر آپ سچے احمدی ہیں تو آج ہی سے اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں۔دعاؤں پر زور دیں۔نمازوں پر زور دیں۔اگر آپ کی بیوی نماز میں کمزور ہے اُسے سمجھائیں باز نہ آئے۔طلاق دے دیں۔اگر آپ کا مخادند نماز میں کمزور ہے اُسے سمجھائیں اگر اصلاح نہ کرے۔تو اس سے ضلع کرا لیں۔اگر آپ کے بچے نماز میں کمزور ہیں تو ان کا اس وقت تک کے لئے مقاطعہ کر دیں کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔(۲) حجب موقع ملے نفلی روزے رکھیں اور گذشتہ رمضانوں کے روزوں میں سے کوئی کمی رہ گئی ہو تو جلد سے جلد وہ قرضہ اُتاریں۔(۳) ان دنوں مسلمانوں پر بڑی مصیبت آئی ہوئی ہے۔آپ اس مصیبت میں حکومت اور افراد کی پوری امداد کریں۔(۴) آج ہی اپنے دل میں عہد کر لیں کہ قادیان کی حفاظت کرتے پہلے جانا ہے اور اس بارہ میں جو سکیم بنی ہے اس پر فوراً عمل شروع کردیں۔۔۔۔۔اور اگر ہندوستانی حکومت کے دباؤ سے ہمیں قادیان خدانخواستہ خالی کرنا پڑے تو ہر ایک احمدی قسم کھائے کہ وہ اسے واپس لے کو چھوڑے گا اور اگر اس میں دیر ہو تو ہر بچہ جب جوان ہو اس سے قسم لی جایا کرے اور یا د رکھو قادیان خدا تعالی کا مقرر کردہ مرکز ہے اور ضرور تمہارے پاس رہنا چاہیے رہے گا انشاء اللہ۔اگر عارضی طور پر کوئی روک پیدا ہو گئی تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر وقت اسے اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں۔(۵) اس مصیبت کے وقت میں زیادہ کماؤ کم خرچ کرو۔زیادہ سے زیادہ چندہ دو۔اب کم سے کم چندہ پچاس فی صدی آمدنی چاہئیے۔اس سے زیادہ جتنی خدا تعالیٰ توفیق دے۔(4) ہر ایک احمدی کو اُجڑے ہوئے احمدیوں کو بسانے کے لئے پورا زور لگانا چاہیے۔مگر تمہاری ہمدردی صرف احمدیوں سے نہیں ہونی چاہئیے۔ہر مسلمان کی ہمدردی تمہارا نصب العین