تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 43
حضور نے ۳/ احادر اکتوبر میش یعنی عین اس روز جبکہ قادیان پر براہ راست حملہ کیا گیا تھا خطبہ جمعہ میں یہانتک فرما دیا کہ ر موجودہ ابتداء تو کوئی چیز نہیں ہم سمجھتے ہیں اگر سارے احمدی مارے جائیں اور صرف ایک پودا اللہ تعالیٰ رکھ لے تو اس سے احمدیت پھر دوبارہ تر و تازہ ہو جائے گی اور خدا کی باتیں کبھی پوری ہونے سے رہ نہیں سکیں گی " لے ازال بعد ۲۴ / اتحاد / اکتوبرش کے خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے ایک لطیف کشف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :- در اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت پر اس وقت ایک مصیبت آئی ہے لیکن یہ صیبت ایسی نہیں جس کی اللہ تعالے کی طرف سے ہمیں پہلے سے خبر نہ مل چکی ہو۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رویا، اس طرف صریح طور پر اشارہ کر رہا تھا اور گو اس روبار کے اور معنی ہماری جماعت پہلے کرتی رہی ہے اور وہ معنی بھی اپنی جگہ پر درست تھے مگر اس کے دوستر معنی بھی ہو سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔میں نے رویا رئیں دیکھا کہ ہم ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنا رہے ہیں۔ہو سکتا ہے اس رویاء میں اسی زمانے سے متعلق پیشگوئی کی گئی ہو۔جب قادیان کے آسمان اور زمین کو دشمن نے بدل دینا تھا۔اللہ بتایا گیا ہو کہ تم اپنے لئے ایک آسمان اور زمین بناؤ گے مگر دشمن اسے تباہ کر دے گا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں پھر توفیق دے گا کہ تم ایک نیا آسمان اور نئی زمین بتاؤ۔چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب وہی وقت آگیا ہے جب میں ایک نئے آسمان اور نئی زمین کی ضرورت ہے " ہے حضرت اقدس نے اسی خطبہ کے دوران مزید فرمایا : اس وقت سارے مسلمانوں پر ایک مصیبت کا دور آیا ہوا ہے اور ہم بھی اس دور میں سے گزار رہے ہیں۔مگر یہ کوئی عجیب بات نہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے درخت اپنی له " الفضل، در اتحاد النویر به بیش صفحه ، کالم ۱-۲ ۰ ۶۱۹۴۷ f الفضل" ۳۱ امضاء / اکتوبر ۱۳۲۰ ش صفحه ۳ کالم ۳