تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 42
اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے ڈال دیں گے کہ ہے هر چه بادا باد ما کشتی در آب انداختیم ساله ما اس پہلے خطبہ جمعہ کے بعد حضور نے بار بار مختلف پیرایوں اور کھلے لفظوں میں یہ بھی پیشگوئی فرمائی کہ جماعت احمدیہ موجودہ خونی انقلاب سے صحیح سلامت گذرنے کے بعد عنقریب پہلے سے زیادہ قوت و شوکت حاصل کرے گی۔مثلاً ۱۲ر تبوک استمبر مہیش کے دوسرے خطبہ جمعہ میں حضور نے یہ بشارت دی کہ اس زمانہ میں محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی خدمت کے لئے خدا تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مبعوث فرمایا ہے اور خدا نے اپنے ہاتھ سے سیاری جماعت کو قائم کیا ہے۔خدا اپنے لگائے ہوئے پودے کو دشمن کے (ہاتھ) سے کبھی تباہ نہیں ہونے دے گا۔خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اس ملک میں کبھی نیچا نہیں ہونے دے گا۔خدا قرآن کو اس ملک۔میں کبھی ذلیل نہیں ہونے دے گا۔وہ ضرور ان کو پھر عزت بخشے گا اور ان کو فتح و کامرانی عطا کرے گا۔ہاں اگر ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے یہ ابتلاء لمبا ہو جائے تو اور بات ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام کی فتح ہو، محمد رسول اللہ کی فتح ہو اور پھر اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرائے لے اسی طرح ۲۵ تبوک استمرر بش کو رتن باغ میں ایک رویاء کی تعبیر میں فرمایا کہ " اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بظاہر کیسے ہی خطرناک ہوں ہمیں خدا تعالیٰ موجودہ مینار سے زیادہ شاندار مینار عطا فرمائے گا اور ہماری طاقت اور قوت میں اضافہ فرمائے گا “۔مله " الفضل" ار تبوك استمبر ۱۳۲۵ صفحه ۲۰۱ ۰ له " الفضل" ۳۰ تبوك / ستمبر ۳۲ ده مش صفحه به کالم ۲-۳ * 1974 " الفضل " حكم الخاد/ اکتوبر ہ نہیں صفحہ ۲۰۱ ہے "