تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 41 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 41

میدان ثابت نہیں ہوتا اُسے پکڑ کر کھڑا رکھنا بھی جائز نہیں ہوتا۔ایسے شخص کو اب جلدی ہی جماعت سے علیحدہ ہونا پڑیگا۔اب جماعت کو ایسے امتحانات پیش آنے والے ہیں کہ جن کے بعد وہی لوگ اس جماعت میں شامل رہ سکیں گے جو قربانیوں میں شامل ہونگے باقی لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا جائے گا۔وہ زمانہ چلا گیا کہ جب ہم یہ کہتے تھے کہ یہ کچھ ہماری طرف سے عقد کے لئے پیش ہے۔اب وہ زمانہ آ گیا ہے جبکہ ہم یہ نہ کہیں گے کہ یہ چیز ہماری طرف سے پیش ہے بلکہ اب اللہ تعالیٰ کے مقدر کو منتظم ہم سے کہیں گے کہ اللہ تعالٰی کے مال میں سے اتنا ہم تم کو دیتے ہیں۔ہر وہ شخص جو ایسی قربانی سے بچنے کی کوشش کرے گا جماعت میں شامل نہیں رہ سکے گا۔اگر نوے فیصدی لوگ بھی اس ابتدار میں گر جائیں تو بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ بقیہ جماعت سینکڑوں گنا زیادہ کام کر سکے گی۔پس تم میں سے ہر شخص کو دعاؤں میں لگ جانا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اسے احمدیت میں ثابت قدم رکھے اور سچی قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ایک دن ولات میں ہم امن میں رہنے والے جنگ و بعدال میں مبتلا کر دیئے گئے اور پُر امن ہندوستان میں رہنے والے یاغستان میں پھینک دیئے گئے۔لیکن اگر یہ صحیح ہے کہ اس دُنیا کا پیدا کرنے والا کوئی خدا ہے۔اور اگر یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دین سچا ہے اور اللہ تعالے کا قائم کردہ دین ہے اور اگر یہ درست ہے کہ جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دین میں کمزوری پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تا کہ آپ دوبارہ اس دین کو قائم کریں تو پھر یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ شوری ڈوبے اور پھر نہ چڑھے اور ہم اس کے پڑھنے کا انتظار کرتے رہیں یا سورج پڑھے اور وہ نہ ڈوبے اور ہم اس کے ڈوبنے کا انتظار کرتے رہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ بڑی سے بڑی آفت بھی اسلام کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق پرانی کتابوں میں آتا ہے کہ وہ کونے کا پتھر ہے جس پر وہ گرے گا اسے چکنا پور کر دے گا اور جو اس پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہوگا۔سو یقیناً ہم آئندہ ابتلاؤں میں کامیاب ہوں گے لیکن یہ خوشی انہی کے لئے ہو گی ہو اس وقت ہلاکت کے سمندر میں