تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 460 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 460

ی کی معلوم ہوتی یک و دنیای بی و تنظیم انسان تیر کرتے ہے میں ایک ہی کہتے ہے ہیں اگر مجھ بھی لوگ پاگل ہیں و میرے لئےاس میں شرم کی کوئی بات نہیں مگر دل میں ایک آگ سے ایک مین ہے، ایک تپش ہے جو مجھے آٹھوں پر برقرار رکھتی ہے۔میں کمانوں کو انکی ذلت کے مقام سے اٹھاکر غزہ کے مقام پر پنچانا چاہتا ہوں میں پھر محمدرسول الہ صلی الہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کونےکونے میں میں نا چاہتاہوں میں پرقرآن کرم کی حکومت دنیامیں کام کرنا چاہاتوں میں نہیں جانا کہ یہ بات میری زندگی ہی ہوگی میرے بود یکی نہیں جانتا ہوں کیا اسلم کی بلند ترین عمار میں اپنے ہاتھ سے ایک اینٹ لگانا چاہتا ہوں یا اتنی اینٹیں کرانا چاہتا ہوں جتنی اینٹیں لگانے کی خدا مجھے توفیق دیتے ہیں اس عظیم الشان عمارت کو کم کرنا چاہتاہوں یا اس عمارت کو اتنا اُونچلے جانا چاہتاہیں بنا لے جانی یا مالی بھی توفیق دی اور میرے جسم کا پرندہ اور میر درد کی طاقت اس کام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خرچ ہوگی۔اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی میرا ئی اہ میں حائل نہیں ہوگی۔میں جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ اپنے فقط نگا کو بدلیں۔وہ زمانہ گیا جب ایک نی تو ان کی ان تھی اور ہم کو سمجھے جاتے تھے۔میں تواس زمانہ م بھی اپنے آپ کا نام ہیں یا ایک یا ایک قوم ہم پر ایک یا ایک ہندوستان کی پوری اور کی اسلامی ملک میں جا کر رہنا شروع کردیں مگراب الدر معانی کا یہ کتنا با احسانے کی بجائے اسکے کہ ہم دور کسی اسلامی ملک ملک عرب یا مجاز میں جاتے اس نے ہمیں وہ ملک دیر یا تو عمل کرے یانہ کیسے کہو ا ا ا ا ہے کہ ا ا ا م ر و ا ل لا اله علی رام کیا ہے۔کی سمجھتا ہوں یہ ہمارے لئے بہت بڑی خوشی کا مقا ہے کہ چار تھی ایک چھوٹی چی دیدی گرانی و دیدی۔یہاں کوئی کمری مانے یا نہ مانے نے یا سنتے ہیں یہ کہوں کہ حد ولا الا ای ایم ایس ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ی دوم ایا ہے کی انا احاول الالم العلوم کے نام پر ایک لومت قائم ہوگئی ہے۔پس اس تصور سے میری خوشی کی کوئی انتہانہیں ہی میں ناموں کو بھول جاتا ہوں۔جو ہندوستان میں ہیں پیش آئے۔اسلئے کہ میرا مکان کومیرے ہا تھ سے جاتا رہامگر میر آقا کو ایک مکان گیا۔یہ درست ہے کہ چوالیس کو سلماوں کے مکان اُن کے ہاتھ سے جاتے ہے ، دو گھر سے لئے گھر گئے جائدادی بی ہونے کا ایک گرایی در پیدا ہوگئی ہےجسے مال دا تم ہی نہ سکتے ہیں کہ میری جگہ ہے۔اور یہ خوشی ہماری اپنی جائدادوں کے کھوئے بہانے سے بہت زیادہ ہے کہ سالہ بیرونی مشین۔اس اہم ارشاد کے بعد حضورنے بیرونی ممالک میں اسلام واحمدیت کے تبلیغی حالات بتاتے ہوئے درنایا کہ اس ان پڑنی مالک میں خداتعالی کے فضل سے بہت کامیابی حاصل ہوتی ہے اور ہمارے مبلغوں نے نہایت اخلاصی در جانفشانی سے کام کر کے جماعت کو بہت بلند مقام پر پہنچا دیا میں امید کرتا ہوں کہ اس سال وہ اس سے بھی زیادہ اخلاص اور جوش سے کام کریں گئے۔ل : اتفضیلی ۲۳ رامان / مارچ با سینه اش هشت ؟