تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 459
۴۵۵ پاکستان کی ترقی۔فرمایا س بات سے نہیں گرانا چاہیئے کہ اتنے زیادہ لوگ یہاں آگئے ہیںاور یہ کھائیں گے کہاں ہے۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے کہ روزی صرف زراعت میں ہی نہیں ہے۔تجارت میں بھی ہے۔بلکہ زراعت کو بہت نہ یادہ اسٹے لوگوں کو زمینوں کے پیچھے پڑنے کی بجائے تجارت کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیئے۔اور ملک ہمیشہ تجارت سے ہی خوشحال ہوا کرتا ہے۔موجودہ حالات کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کے ایسے ذرائع پیدا ہو گئے ہیں کہ بہت جلد یہ ملک دنیا میں بلند مقام حاصل کرلے گا۔کثرت آبادی ملک کی ترقی میں روک نہیں ہوا کرتی بلکہ تاریخ ہمیں بتائی ہے۔کہ ملک کی تمام تر تر قی آبادی کی کثرت سے وابستہ ہے۔پاکسان کو اس استان کی سیڑھی بنانے کے عزم کا پرو کا اعلان میری سمی و روان دی ماری مسائل پر روشنی ڈالنے کے بعد نہایت پیر جلال انداز میں فرمایا : - پاکستان کا مسلمانوں کومل جانا اس لحاظ سے بہت بڑی اہمیت کھتا ہے کہ اب کمانوں کو الہ تعالی کے فضل سے سائنس لینے کا موقعہ میتر آگیا ہے دردہ آزادی کیسا تھ ترقی کی دوڑ میں صولے سکتے ہیں۔اب ان کے سامنے کرتی کے اتنے غیر محدود ذرائع ہیں کہ اگروہ اور اختیار کریں تودنیاکی کوئی تو انکے مقابل میں مر نہیں سکی اور پاکستان کا مستقبل نہایت ہی شاندار پوستا ہے۔لگا پھر بھی پاکستان ایک چھوٹی چیز ہے ہمیں اپنا قدم اس سے آگے بڑھانا چاہیئے اور پاکستان کو اس استان کی بنیاد بنانا چاہیئے۔بیشک پاکستان بھی ایک اہم چیز ہے۔بیشک عرب بھی ایک اہم چیز ہے۔بیشک حجاز بھی ایک اہم چیز ہے بیشک مصر بھی ایک اہم چیز ہے۔بیٹک ایران بھی ایک اہم چیز ہے مگر پاکستان اور عرب اور حجاز در رودستر اسلامی ممالک کی ترقیات صرف پہلا قدم ہیں۔اصل چیز دنیا می اس استان کا قیام ہے۔ہم نے پھر سارے مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کہنا ہے ہم نے پھر سلام کا جھنڈا دنیا کے تمام مال میں ہرانا ہے۔ہم نے پھر محمد و اسلامی ملا علیہ وسلم کا نام رت اور آیرود کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔ہمیں پاکستان کے جھنڈے سے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں مصر کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں عرب کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے ہمیں ایران کے بھنڈ سے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے مگر ہیں حقیقی خوشی تب ہوگی جب سارے ملک آپس میں اتحاد کرتے ہوئے اس امستان کی بنیاد رکھیں۔ہم نے اسلامکو اس کی پرانی شوکت پر قائم کرنا ہے۔ہم نے خدا تعالی کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے عدل اور انصاف کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور ہم نے عدل وانصاف پر مبنی پاکستان کو اسلامک یونین کی پہلی سیڑھی بنانا ہے۔یہی اسلامستان ہے جو دنیا میں حقیقی امن قائم کریگا۔اور ہر ایک کو اسکا حق دلائیگا۔جہاں روتی اور امریکہ فیل ہو صرف مکہ اور مدینہ ہی انشاء اللہ کامیاب ہونگے۔یہ چیز یا اس وقت ایک