تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 458
۴۵۴ جود تو اسوقت پچھپ جانی چاہیئے تھی۔قادیان سے یہاں منتقل ہو جانی کی وجہ سے مرض التواء میں پڑگئی ہے۔البتہ انگریزی قرآن کریم کے پہلے دس پارے چھپ گئے ہیں اورانکی جلد بندی ہو رہی ہے۔اس موقعہ پر حضور نے حضرت مولوی شیر علی صاحب نے کی دفات پر اظہار افسوس کیا جنہوں نے ترجمہ وغیرہ کا کام نہایت محنت اور اخلاص سے کیا۔"" ی مینیون و وانان و تیمی را نیکی ضرورت پر روٹی ڈالتے ہوے فرمایا تن داد کی بہت بہت سے طلباء کالجوں کے بند ہوجانے اور دیگرمشکل کے حامل ہو جانے کی وجہ سے تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔بیشک مشکلات مرد ہیں لیکن والدین کو مشکلات برداشت کر کے بھی ان کی تعلیم کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ ہمارا تقبیل انہیں سے وابستہ ہے اور اگر آج ہم میں کوتاہی کریں گے تو آئندہ ہماری نسلیں۔اوادی فتح کامران کا منہ ہی دیکھ سکی تعلیم ہر سال لازمی ہے اور یہ امرکہ کو تعلیم ہو ہمیں آپ لوگوں پرچھوڑتا ہوں البتہ قرآن کریم کا مجرا در معیت وغیرہ کے ضروری مسائل جان ہر - احمدی کا فرض ہے چین رہ :۔موجودہ حالات کی وجہ سے ہمارے بندوں پر بہت اثر پڑا ہے۔کیونکر اقل تو شرقی پنجاب کا جماعتیں نادار ہوگئی ہیں اور دو سر مربی پنجاب کے کثیر حصہ کو مہاجرین کا بوجھ اٹھا نا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے خدا کا کام کرتا ہے اور اس سلسلہ کے بوجھ کو اٹھانا ہے۔اور اس بارہ میں مشاورت میں جو ہدایات میں نے دی ہیں ان پر عمل کیا جائے۔مہاجرین کی آبادکاری کا مسئلہ :۔مشرقی پنجا ہے آنیوالے مہاجرین کا ذکر کر تے ہوئے حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ جتنی زمین مشرقی پنجاب میں چھوڑ آئے ہیں اسکی بہت زیادہ یہاں غیرمسلم بھی ڈر گئے ہیں۔اگر ان کوعلاقہ دار تقسیم کیا جاتا تو کوئی مشکل نہ ہوتی اورسب کو زمین مل جاتی۔اب چونکران کو ہے تماشا بھی دیا گیا ہے۔اس دیر سے بہت سے نقائص واقع ہو گئے ہیں۔ایک نقص تو یہ واقع ہوا ہے کہ زمینداروں نے کیوں کو بھی اپنے ساتھ مل کر زیادہ زمین حاصل کرلی۔اور دوسرے ان کیوں نے کسی دوسری جگہ جا کر در زمین حاصل کرلی۔تیسرے زمین کا بڑا حصہ پٹواریوں نے اپنے رشتہ داروں ذخیرہ کیلئے ریز رد کرلیا ہوا ہے۔چوتھے بعض لوگوں نے پٹواریوں سے مل کر ہندوؤں کی زمین اپنے نام لکھوالی ہے کہ وہ پچھلے سال سے ہی اس کی کاشت کر رہے تھے۔بہرحال موجودہ طریق تقسیم میں بہت سے نقائمی ہیں۔اگر اس کو بدل دیا جائے تو سب لوگوں کو تقسیم کرنے کے بعد کچھ زمین بیچ بھی جائے گی۔۱۵ - حضرت موں نا شیر علی صاحب او تقسیم ہند کے بعد ہی میں انتقال کر اور دوسرے بزرگوں کا ذکر کی جلد می نہ ہش کے بقیہ حالات کے ضمن میں آرہا ہے ؟