تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 34
۳۴ شمس قائم مقام ناظر اعلیٰ نے صدر امین احمدیہ پاکستان کی سال اول کی رپورٹ میں تحریر فرمایا۔پرانے اور کہنہ مشق کارکنوں کی جگہ نئے اور اعزازی کارکنوں نے لے لی اور وہ رات اور دن نہایت اخلاص اور محنت کے ساتھ سلسلہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو دین و دنیا میں بہتر سے بہتر جزا دے لیکن یہ امر ظاہر ہے کہ یہ نئے اور اعزازی کا رکن جن کو پہلے صدر انجین احمدیہ کے کاموں کا تجربہ نہیں تھا اس کی اور خلا کو پورا نہیں کر سکتے تھے ، جو تجربہ کار پرانے کارکنوں کی عدم موجودگی میں پیدا ہو چکا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ۔۔کوئی موثق ریکارڈ تمہیں رکھا جا سکا " پھر لکھا :- اور شملہ کے جو افراد قادیان میں تھے وہ یکے بعد دیگرے جنوری کے ہتک لاہور آگئے d اور مفوضہ کام ان کے سپرد کر کے اعزازی کارکنوں کو شکریہ کے ساتھ فارغ کر دیا گیا۔" مالی مشکلات جماعت کا پورا نظام چندوں پر ھیل رہا تھا لیکن چندوں کی آمد ملکی ذرائع و وسائل کے محدود و مخدوش ہونے کے باعث یکسر معطل ہو چکی تھی جو نہایت درجہ تشونیش انگیز امر تھا۔اس تعلق میں حضور نے کیا اقدام فرمایا۔اس بارہ میں جناب مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کا بیان ہے کہ:۔" حضور رضی اللہ عنہ نے صدر انجین کے قیام کے ساتھ ہی ہدایت فرمائی کہ چونکہ چندے نہیں آرہے اس لئے ہر محکمہ کو کوشش کرنی چاہئیے کہ وہ خود کفیل بنے اور اپنے اخراجات کو چھلانے کی تجویز کرے۔ان حالات کا تھوڑا سا اندازہ دو واقعات سے ہو سکتا ہے۔صدر انجمن کے قیام کے بعد حضور نے مکرم مولوی محمد صدیق صاحب کو سجود عامل بلڈنگ میں ایک دوکان کھلوا دی تاکہ اس کی تجارت کے ساتھ کوئی آمد کا ذریعہ پیدا ہو سکے چنانچہ کافی عرصہ تک ان کو یہ کام کرنا پڑا۔اسی طرح سے خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ اپنے محکمہ کے کام کو پھلانے کے لئے تم مالٹے بیچا کرو چنانچہ خاکسار مالٹوں کا ٹرک بھر کر روز واہگہ بارڈر پر بھاتا اور اس سے جو آمد ہوتی اس کی رپورٹ حضور کو دیتا تھا۔ان حالات میں صدر انجین احمدیہ کے ناظران اور عملہ نے کام شروع کیا۔ناظر صاحب بیت المال کو حضور کا یہ ارشاد تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے وہ چندوں کی فراہمی شه رپورٹ صدر امین احمدیہ پاکستان ۲۲۳ بیش صفحه ۰۵۱ د FANANA