تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 444 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 444

1411 پیل جیسی مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ہوا اور شور سے جلسے مسجد نور میں ہونے شروع ہوئے اور گذشتہ سال) تک دارالعلوم کے علاقہ میں ہی جملے ہوتے پہلے آئے ہیں۔خداتعالی کی کسی حکمت کے ماتحت آج پھر مسجد اقعلی میں ہمانا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے اسے نہیں کہ جلسہ ساہ نہیں شامل ہونے والے مشتاقوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔بلکہ شمع و حریت کے پروانے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے قادیان نہیں آسکتے۔یہ حالات عارضی ہیں اورخدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمیں پورا یقین ہے کہ قادیان احمدیہ جماعت کا مقدس مقام اور خدائے وحدہ لا شریک کا قائم کردہ مرکز ہے۔وہ ضرور پھر احمد اوین کے قبضہ میں آئے گا اور پھر اس کی گلیوں میں دنیا بھر کے احمدی خدا کی حمد کے ترانے گاتے پھریں گے۔جود لوگ اس وقت ہمارے مکانوں اور ہماری جا مداد پر قابض ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا قبضہ قبضہ منانا ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ لوگ مجبور اور معذور ہیں وہ لوگ بھی اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور ان کی جائیدادوں سے انہیں بے دخل کیا گیا ہے۔گو وہ ہمارے مکانوں اور ہماری جا کر اوروں پر جبرا قابض ہوتے ہیں مگر ان کے اس دخل کی ذمہ داری اُن پر نہیں بلکہ ان حالات پر ہے جن میں سے ہمارا ملک گذر رہا ہے۔اس لئے ہم ان کو اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور آپ لوگ بھی انہیں اپنا ہمان کجھیں ان سے بھی اور تمام ان شریف لوگوں سے بھی جنہوں نے ان فلتہ کے ایام میں شرافت کا معاملہ کیا ہے۔محبت اور درگزر کا سلوک کریں اور جو شریر ہیں اور انہوں نے ہمارے انسانوں کو ٹھیلا کہ ان فتنے کے ایام میں چوروں اور ڈاکوؤں کا ساتھ دیا ہے آپ لوگ ان کے افعال سے بھی چشم پوشی کریں۔کیونکہ مزا دینا یا خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے یا حکومت کے سپرد کیا ہے اور حکومت آپ کے ہا تھ میں نہیں، بلکہ اور لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر حکومت اپنا فرض ادا کرے گی تو وہ خود ان کو سزا دے گی۔پر بلال یہ آپ لوگوں کا یا ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔خدائے واحد لاشریک کے سامنے رعایا بھی اور حاکم بھی پیش ہوں گے اور ہر ایک اس کے سامنے اپنے کاموں کا جواب دہ ہوگا۔پس خدا کے حکم کے ماتحت اس حکومت کے فرمانبردار رہو۔میں حکومت میں تم بہتے ہو۔یہی احدیت کی تعلیم ہے جس پر گزشتہ ستادن سال سے ہم زور دیتے پہلے آئے ہیں۔یہ تعلیم آج کل کے حالات سے بدل نہیں سکتی اور نہ آئندہ کے حالات کبھی بھی اسے بدل سکتے ہیں۔دنیا میں بھی بھی اس قائم ہیں ہو سکتا جیت کا اس تعلیم پر عمل نہ کی جائے کہ ہر ملک میں لینے والے اپنی حکومت کے فرمانبردار ہیں اور اس کے انون کی پابندی کریں۔کوئی اس عظیم کو مانے یانہ ان احمدی جماعت کا فرض ہے کہ ہمیشہ اس تعلیم پر قائم رہے۔ملک کے قانون کے ماتحت اپنے حق مانگنے منع نہیں لیکن قانون توڑنا اسلام میں جائزہ نہیں۔میں نے سُنا ہے کہ بعض غیر مسلموں نے میری ایک تقریر کے بعض فقرات کو بگاڑ کر قادیان میں اشتہار دیا کہ میں نے کہا ہے کہ تمام ہندوستان کے احمدیوں