تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 423 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 423

والم نرم لکڑی کڑی کی ایک قسیم بہت ہی زم ہوتی ہے۔ان لکڑیوں سے دیا سلائی کی تیلیاں بنائی جاتی ہیں اس وقت تک یہ لکڑیاں اندھیان اور نکو باہر سے آتی تھیں مگر دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان میں بھی ایک اس قسم کا درخت پایا جاتا ہے جس کی لکڑی سے دیا سلائی کی تیلیاں بن سکتی ہیں اور یہ درخت اتنی مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ اگر ان سے دیا سوئی کی تیلیاں بنائی جائیں تونہ صرف پاکستان بلکہ سارے ہندوستان کی ہردور میں اسکی پوری ہو سکتی ہیں۔ضرورت ہے کہ ایسا کارخانہ بنایا جائے جو بلوچستان میں یہ تیلیاں بناکر دیا سلائی کے کارخانوں کے پانی فروخت کرے۔اور یہ صنعت مس کی سب سے بڑی مشکل ان تیلیوں کا بہتا ہوتا ہے۔پاکستان میں فرد رغ پا سکے۔کھڑی کی کی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں فور پلاسٹنگ کے کارخانے جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے میگا چونکہ یہ سوال میری تقریر کے زراعتی حصہ کے ساتھ متعلق ہے میں اس کا ذکر آگے چل کر کروں گا۔جڑی بوٹیاں نیاتی دولت کا ایک بڑا جز و جڑی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں۔شمانی جڑی بوٹیاں کشمیر، چنبہ ، چیتران ،صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ملی ہیں کشمیر کا سوال مشتبہ ہے۔اور یہ قطعی طور پر اڈین یو میں یں شامل ہو چکا ہے اسی پاکستان میں جڑی بوٹیاں چترال صوبہ سرحد اور بلوچستان میں سے جمع کی جاسکتی ہیں۔اور پاکستان کی خوش قسمتی سے ان تینوں علاقوں میں کافی بڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔بلکہ بعض جڑی بوٹیاں ایسی نادر ہیں کہ دنیا کے بعض دوسرے حصوں میں نہیں ملیں بلوچستان کی جڑی بوٹیوں کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ ان میں الکلائیڈ جو کہ دواؤں کا فعال جزد ہوتا ہے۔دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ پائے جاتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں بارشیں کم ہوتی ہیں۔جڑی بوٹیوں سے بہت سی ادویہ اور کیمیاوی اجزاء تیار کئے بھجاتے ہیں۔ابھی تک ہندوستان کی جڑی بوٹیاں کامل سائنٹیفک تحقیقات سے محروم ہیں اور ہزاروں ہزار مفید ادویہ اور کمپیادی اجزاء گل میں محنت پڑے ہوتے ہیں۔یورپ کے لوگ قدرتی طور پر ان اور یہ کی تحقیق کرتے ہیں جو ان کے ملکوں کی بڑی بوٹیوں سے بنائی جا سکتی ہیں۔یا جو آسانی سے لگام کے قبضہ میں آسکتی ہیں۔تا کہ اُن کا تجارتی نقع انہیں کو ملے۔اب پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کے لئے موقع ہے کہ اپنی نباتی دوست سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائے۔اگر یک محکم بنا دیا جائے جو جڑی بوٹیوں کے اسکا ئیڈن اور دوسرے کی مادی جراء دریافت کرے۔تو تھوڑے ہی عرصہ میں بیلوں کئی دوائیں پاکستان میں ایجاد ہو جائیں گی جو دنیا کی ساری منڈیوں میں اچھی قیمت پر بک سکیں گی حکیم اجمل خانصاحب مرحوم کو اسکا خیال آیا تھا۔اور انہوں نے طبیہ کالج دہلی کیساتھ ایک