تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 422
دام پھلائی وغیرہ۔اس ذریعہ سے پرٹا بھی پیدا کیا جاسکتا ہے۔جتنی ضرورتوں کے بھی کام آئے گا۔اور کئی کیمیا دی کارخانوں میں بھی استعمال ہو گا۔اسکے علاوہ ایسی ٹون - ایسٹک ایسڈ اور فارمیلڈی ہائیڈ بھی اسی بنائے جا سکتے ہیں۔اول الذکر بارود کے بنانے میں کام آتا ہے یتیم اور کیکر کے درخت بہت حد تک تعمیری ضر در توں کوبھی پورا کر سکتے ہیں۔جکل تعمیری ضرورتوں کے لئے زیادہ تردید مارک قسم کی کڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔جیسے۔یار کی پڑتی اور چیل یہ مکڑیاں پہاڑوں پر ہوتی ہیں۔پہلے کشمیر بھنبہ ، اور منڈی سے یہ بتائی جاتی میں ریلوں کی لائینی بنانے میں ہیں لڑکی کام دیتی تھی۔کیونکہ ریل پر بھائی جانے والی شہتیریاں ہر وقت تنگی رہتی ہیں اور ان پر بارش کا پانی پڑ تا ہے۔عام لکڑی زیادہ دیر تک گیلی رہنے سے خراب ہو جاتی ہے۔دیار کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ گیلے ہونے سے خراب نہیں ہوتی۔ان لکڑیوں کو بعض ادویہ سے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ ان کو کیڑا نہ لگ سکے۔اور پھر ریل کی پٹڑی پر استعمال کیا جاتا ہے اس طرح اچھی عمارتوں کی تعمیریں بھی یہ کام آتی ہے۔یہ کڑی چنبہ اور منڈی کے ہندوستان میں پہلے جانے کی وجوہ سے ور کشمیر کی حالت مشتبہ ہوجانے کی وجہ سے اب پاکستان کو نہیں مل سکے گی۔صرف مرکی اور ہزارہ سے کچھ لکڑی پاکستانی کو مل سکے گی۔مگر وہ اس کی ضرورتوں کے لئے کافی نہیں۔اس لکڑی کے مہیا کرنے کے لئے پاکستان کو کچھ اور علاقے تلاش کرتے ہوں گے۔پاکستان کے ملحقہ علاقوں میں سے چترال اور بالائے سوات کے علاقہ میں یہ لکڑیاں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں۔اور بعض بعض حصوں میں تو ہزارہ ہزار سال کے پرانے درخت پائے جاتے ہیں۔جن کی قیمت عمارتی لحاظ کر بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ ان علاقوں سے لکڑی پاکستان میں پہنچائی نہیں جاسکتی۔چترال سے صرف ایک دریائی راستہ پاکستان کی طرف آتا ہے۔اور وہ حکومت کابل میں سے گذرتا ہے۔اس کے سواکوئی دریائی رستہ نہیں۔ختگی کے رستے ان لکڑیوں کا پہنچانا بالکل ناممکن ہے۔دریائے کابل کے ذریعہ سے اس لکڑی کے دانے میں بہت کی سیاسی اور اقتصادی دقتیں ہوں گی۔اگر ریاست کابل اجازت بھی دیر سے تو لکڑی کا محفوظ پہنچنا نہایت ہی سشوار ہو گا۔اسی طرح بالائے سوات کی لکڑی کا پہنچنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔مگر ہر حال فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کو کچھ معاہدوں کے ذریعہ سے اس وقت کو دور کرنا چاہیئے۔اور ساتھ ہی اس بات کی سر سے کرنی چاہیئے ک کچھ پہاڑی کو لاکر کیا کوئی ایسا نہیں نکالا جاسکتا۔ہوکہ چترال اور بالائے سوات سے برائے راست پاکستان میں واقل کیا جا سکے۔اگرایسا ہو سکے تو یہ ضرورت پوری ہو جائے گی۔لیکن اس کے علاوہ جنگلات کے ماہر دن کو اس بات کیلئے ہدایت ملنی چاہیئے کہ وہ درختوں کی مختلف اقسام پر غور کر کے ایسی اقسام معلوم کریں جو پاکستان کی آب وہوا میں اگائے جاسکیں۔اور عمارتوں کی تعمیر اور جہازوں کی ساخت دوریوں کی پٹڑیاں بنانے کے کام میں استعمال کئے جاسکیں۔