تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 411 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 411

وم لیکچر مینار ہال میں ہو چکے ہیں۔اور اہالیان لاہور پر ان ٹیچروں کا گہرا اثر ہے۔ارباب حل وعقد کو بھی خدا توفیق دے کہ دہ آنجناب کے قیمتی مشوروں اور بیش قیمت نصائح سے استفادہ کر کے ملک وملت کی مشکلات کا مدادا کریں۔کل رات کے لیکچر کا جوحصہ باقی رہ گیا تھاوہ سب سے زیادہ اہم تھا۔اس سلسلہ میں جناب سے یہ گذارش ہے کہ تیرا لیکچر صرف اسی حصہ پر ہو اور اس طرح کل لیکچر چار کی بجائے پانچ ہو جائیں۔اگر کسی بڑے مال دوش حبیبی بال اسلامیہ کالج میں سکھ کا انتظام کیا جائے تو زیادہ تعداد میں لوگ استفادہ ریکیں گے۔یو نیورسٹی امتحانات کی وجہ سے ممکن ہے روکاوٹ ہو تا ہم ایک دن کیلئے بال خالی کرا یا جا سکتا ہے۔امید ہے منتظمین جلسہ میرے جسم میں اوڈ سپیکر کا بہترین انتظام کریں گے اور ناقص قسم کا اکہ تقریر کی رانی میں بار بارہ تخل انداز نہ ہو گا۔دعا ہے کہ جناب کے وجود سے مسمانوں کو بیش از پیش فوائد حاصل ہوں۔والسلام مخلص مسعود بیگ احمدیه باران گیس لاہور یہ تو سامعین کی بعض آرا م میں جہاں تک ان اجلاسوں کی صدارت کرنے والی شخصیتوں کا تعلق ہے انہوں نے اپنے سے۔صدارتی ریمارکس میں ن لیکچروں کو بہت سراہا اور اسے پاکستان کی عظیم خدمت سے تعبیر کیا۔اور چنانچہ فیروز خان صاحب نوکی نے کہا : - حضرت صاحب کے دماغ کے اندر علم کا ایک سمندر موجزن ہے۔انہوں نے تھوڑے وقت میں ہمیں بہت کچھ بتایا ہے اور نہایت فاضلانہ طریق سے مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔یہ نہ ملک عمر حیات صاحب پر نسپل اسلامیہ کالج۔وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے اپنی طرف سے اور سامعین کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا :- حضرت مرزا صاحب کی تقریراتی پر از علیات اور جامع تھی کہ ہم نے اول سے آخر تک یکساں دلی سے مئی ہے۔آپ نے حضور کی تقریر کی تائید کرتے ہوئے پاکستان ایجو کیشنل کانفرنس سند کرا چی کا ذکر کر کے بتا یا کراس کانفرنس نے سلام کو پاکستان کے نظام تعلیم کی بنیاد قرار دیا ہے اور مدارس میں دینیات کی تعلیم کولازمی مضمون کے طور پر کرائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے " سے الفضل و فتح اردسمبر انه اش ما به : الفضل لم ر فتح دسمبر نه پیش من به