تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 29
۲۹ سے تجھے اپنی نعمتوں سے ہمیشہ متمتع کرتے رہیں گے غرض خدا سے سچا تعلق رکھنے والا انسان ہمیشہ آرام میں رہتا ہے۔لیکن فرض کرو وہ کہیں فیصلہ کر دیتا ہے کہ ہم بھوکے مر بھائیں تو کم از کم مجھے تو وہ موت نہایت شاندار معلوم ہوتی ہے جو خدا تعالے کی راہ میں بھوکے رہ کر حاصل ہو بجائے اس کے ہم پیٹ بھر کر خدا تعالیٰ کے راستہ سے الگ ہو بھائیں۔اگر ہم اس کی راہ میں بھو کے مر بھائیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے ہم کتنی شان سے پیش ہوں گے۔کتنے دعوئی کے ساتھ پیش ہوں گے کہ ہم نے تیرے لئے بھوکے رہ کر اپنی جان دے دی۔مگر یکیں دیکھتا ہوں کہ زندگی وقف کرنے والے نو جوانوں کے بعد ید حصہ میں اب وہ تو کل نہیں جو ایک سچے مومن کے اندر ہونا چاہیے۔حالانکہ اگر سلسلہ ان کو ایک پیسہ بھی نہ دے اور وہ تو کل سے کام لیں تو یقیناً زمین اُن کے لئے اگلے گی اور آسمان ان کے لئے اپنی نعمتیں برسائے گا “ لے صلا امین احمدیہ پاکستان کی بے پناہ مشکلات ہرنے کام کی ابتداء میں کچھ نہ کچھ مشکلات ضرور پیش آتی ہیں مگر صدر انجین احمدیہ پاکستان اور ان کا حل کی تشکیل د تاسیس ہی مشکلات کے ناقابل عبور طوفانوں اور تند و تیز آندھیوں کے دوران ہوئی۔قادیان کے بیرونی دنیا سے کٹ جانے کے باعث برصغیر کی احمدی جماعتوں کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور سینکڑوں احمدی مرد، عورتیں اور بچے نہایت قابل رحم حالت اور بے سرو سامانی کے عالم میں مشرقی پنجاب سے پاکستان آرہے تھے اور یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا ہی بھا رہا تھا۔اس ملک گیر سانحہ میں صدر انجمین احمدیہ پاکستان کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے جین بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا آج اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔تاہم تین مشکلات تو بالکل واضح تھیں :- ا ریکارڈ کی مشکلات صدر انجمن احمدیہ قادیان کے دفاتر کی دستاویزات اور ریکارڈ کا معتدبہ حصہ قادیان کے فسادات میں اس خدشہ کے پیش نظر نذر آتش کر دیا گیا تھا کہ شمن اس سے فائدہ نہ اُٹھا سکے اور جو بچ رہا تھا ( محاسب وغیرہ کے بعض رجب رات کے سوا) وہ شروع میں له " الفضل و الضاور اکتوبر سرش صفحه ۹۲ +