تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 28
۲۸ اور ایسا ہی ہوا۔اپنے خاندان کے تمام افراد کے کھانے کا انتظام میں نے کیا اور برابر کئی ماہ تک اس بوجھ کو اُٹھایا۔آخر کسی نے چھ ماہ کے بعد اور کسی نے نو ماہ کے بعد اپنے اپنے کھانے کا الگ انتظام کیا۔اس عرصہ میں وہ لوگ جن کا روپیہ میرے پاس امانتاً بیٹا ہوا تھا وہ بھی اپنا روپیہ لے گئے اور ہمیں بھی خدا نے اس طرح دیا کہ ہمیں کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم کوئی اور تدبیر ایسی اختیار کریں جس سے ہماری روٹی کا انتظام ہو۔میں جب تک لاہور نہیں پہنچا۔ہمارے خاندان کے لئے لنگر سے کھانا آتا رہا تھا مگر یہانتک مجھے علم ہے اس کی بھی لنگہ کو قیمت ادا کر دی گئی تھی اور اس کے بعد اپنے خاندان کے دو شور افراد کا بوجھ اُٹھایا۔حالانکہ اس وقت ماہوار خوچ کھانے کا کئی ہزار روپیہ تھا۔غرض خدا دیتا پھلا گیا اور میں خرچ کرتا چلا گیا۔اگر میں خدا تعالٰی سے ٹھیکہ کونے بیٹھ جاتا اور اس سے کہتا کہ پہلے میری تنخواہ مقرر کی جائے پھر میں کام کروں گا اور خدا تعالیٰ خواب یا الہام کے ذریعہ پوچھتا کہ بتا تجھے کتنا روپیہ چاہیے تو اُس زمانہ کے لحاظ سے، جب میری ایک بیوی اور دو بچے تھے میں زیادہ سے زیادہ یہی کہ سکتا تھا کہ سو روپیہ بہت ہوگا مجھے ایک سو روپیہ ماہوار دیا جائے لیکن اگر میں ایسا کرتا تو آج کیا کرتا جبکہ میری چار بیویاں اور بائیں بچے ہیں اور بہت سے رشتہ دارد ایسے ہیں جو اس بات کے محتاج ہیں کہ میں اُن کی مدد کروں میرے وہ رشتہ دار جن کا اب بھی میرے سر پر بوجھ ہے ساتھ ستر کے قریب ہیں۔اگر سو روپیہ میں اپنے لئے مانگتا تو ان کو ڈیڑھ ڈیڑھ روپیہ بھی نہیں آسکتا تھا۔پھر میں روٹی کہاں سے کھاتا ، کپڑے کہاں سے بنواتا۔اپنے بچوں کو تعلیم کس طرح دلاتا اور اپنے خاندان کے افراد کی پرورش کیس طرح کرتا۔بہر حال میں نے خدا تعالیٰ سے یہ کبھی سوال نہیں کیا کہ تو مجھے کیا دے گا اور خدا تعالیٰ نے بھی میرے ساتھ کبھی سودا نہیں کیا۔میں نے خدا تعالیٰ سے یہی کہا کہ مجھے ملے نہ ملے ، میں تیرا بندہ ہوں اور میرا کام یہی ہے کہ میں تیرے دین کی خدمت کروں۔اور اس کے بعد خدا تعالٰی نے بھی یہی کیا کہ یہ سوال نہیں کہ تیری لیاقت کیا ہے۔یہ سوال نہیں کہ تیری قابلیت کیا ہے۔ہم بادشاہ ہیں اور ہم اپنے بادشاہ ہونے کے لحاظ