تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 27 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 27

۲۷ نه بھی انتظام کر دیا گیا جس سے احباب کو بھاری سہولت رہی ہے۔۱۹۴۸ ۱۳ نبوت / نومبر اس سے نظارت ضیافت کی نگرانی حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب کو سونپ دی گئی اور ملک سیف الرحمن صاحب جائنٹ ناظر ضیافت کے فرائض انجام دینے لگے۔ماہ احسان جون پر مہش کو آپ علمی مشاغل اور درس و تدریس کے لئے فارغ کر دیئے گئے اور آپ کی جگہ چوہدری جبیب اللہ خاں صاحب سیال بی۔اسے واقف زندگی نے کام سنبھالا جو ماه امان مارچ پیش تک انچارج ضیافت لاہور رہے جس کے بعد بالآخر مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب قائم مقام ناظر ضیافت مقرر ہوئے۔اس طرح لاہور میں لنگر خانہ کا انتظام جہا نوازی یکم تبوک استمبر ہمیش سے لے کر آخر ماہ ہوتے امتی مش تک قائم رہا سکے ۱۹۴۷ء للہ تعالے کی طرت سید نا الصلح الموعود کے طفیل ان ایام میں جبکہ ہر طرت یاس وحسرت کی گھنی ہیں سیدنا چھائی ہوئی تھیں۔غم و اندوہ اور درد و اضطراب خاندان مسیح موعود کے خورد و نوش کا انتظام کی لہریں دوڑ رہی تھیں اور مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اور کوئی کسی کا پرسان حال نظر نہ آتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے سیدنا المصلح الموعود کی برکت سے کس طرح خاندان مسیح موعود کے خور و نوش کا انتظام کرا دیا کہ اس کی تفصیل خود حضور ہی کے الفاظ میں لکھی جاتی ہے۔فرماتے ہیں :- و ہم جب قادیان سے آئے اس وقت ہمارے خاندان کی تمام جائیدادیں پیچھے رہ گئی تھیں اور ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔بعض دوستوں کی امانتوں کا صرف نو سو روپیہ میرے پاس تھا۔ادھر ہمارے سارے خاندان کے دو سو کے قریب افراد تھے اور ان میں سے کسی کے پاس روپیہ نہیں تھا۔اس حالت میں بھی میں نے یہ نہیں کیا کہ لنگر سے کھانا منگوانا شروع کر دوں بلکہ میں نے سمجھا کہ وہ خدا جو پہلے دیتا رہا ہے اب کبھی دے گا چنانچہ میں نے اپنے خاندان کے سب افراد سے کہا کہ تم فکر مت کرو سب کا کھانا اکٹھا تیار ہوا کریگا نے سالانہ احمد رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد استان ۱۹۴۹ و صفحه ۵۳ - ۲۵۵ " ۱۳۲۲-۲۷ مش صفحه ۳۶ * ۳۲-۳۰ مش صفحه ۵۳ :