تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 368
نوبر کے آخری کنائے کی وانی کاری این منظر پاکستان سے قادیان جانے والی آخری کنارے سے روانہ ہوا۔یہی وہ کانوائے ہے جس کے ذریعہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمر صاحب مولانا جلال الدین صاحب شمس اور دوسرے بزرگان سلسلہ اور احباب جماعت لاہور تشریف لائے۔مولی نا بھلائی الدین صاحب شمس نے رخصت ہوتے ہوئے نہایت درد بھرے الفاظ میں کہا :- " اسے قادیان کی مقدس سرزمین ! تو ہمیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پیاری ہے لیکن حالات کے تقاضا سے ہم یہاں سے کھلنے پر مجبور ہیں۔اسی ہم تجھ پر سلامتی بھیجتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں۔لے صاحبزادہ مرز اظفر احد صاحب اس کا یہ ائے کی یہ انکی کے رقت انگیز منتظر کا نقشہ درج ذیل الفاظ میں ہیں : آخری قافلہ یہاں سے ۶ نومبر ان کو گیا۔چونکہ بہت لوگوں نے جانا تھا۔ہرقسم کی تیاری کرنی تھی ای اکثر لوگ قریباً بیشتر حصہ راست کا جاگتے رہے مگر صبح ہی پھر پہلی جلدی ہی شروع ہو گئی اور سامان کے ساتھ یہ لوگ محلہ دارای انوار کی سڑک پر پہنچنے شروع ہو گئے۔بارہ بجے کے قریب سب ٹرک لد گئے اور اجتماعی دعاؤں کے بعد جو کہ مسجد مبارک اہمیت الدعا مسجد اقصی اور بہشتی مقبرہ میں ہوئی سب لوگ ڈیکوں کے پاس پہنچ گئے۔مگر ہاں منظری اور تھا۔جانے کی خوشی توکسی کو کیا ہونی تھی۔ہر ایک رنج اور غم سے پیسا جا سا تھا۔ہر ایک قدم جو کند ائے کی طرف اُٹھتا تھا وہ آگے سے ہوتھل ہوتا۔جو ضبط کی طاقت رکھتے تھے وہ ضبطہ کی کوشش کرتے۔مگر اس کے راز کو ان کی سرخ نہ تمھیں پکار پکار کے خاش کہ یہ ہی تھیں اور جن کو ضبط کی طاقت نہ تھی وہ اس طرح روتے تھے جسطرح کہ کوئی بچہ اپنی ماں سے بچھڑنے کے وقت کرتا ہے آخرده وقت بھی آگیا یعنی او د اعلی دعا کا جس کرب اور الحاج کے ساتھ یہ دعا مانگی گئی اور میں تضرع اور عاجزی سے انہوں نے اپنے پر دردا کو پکارا اس کو الفاظ بیان نہیں کر سکتے اور سنی وہ نظارہ دیکھا وہ بھی اسے بھول نہیں سکتا۔وہاں بہت سے غیر مسلم آئے ہوئے تھے اس کے علاوہ علم ملٹری کے سبب سپاہی موجود تھے اور وہ سب محو حیرت تھے کہ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کی گذشتہ ه الفرقان فردیشان قادیان نهر اگست ستمبر اکتو بر مدار صفر ۶ به