تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 360
٣٥٩ نے پہلے انبیاء کے ذریعہ سے ہم کو یہ نمونے دکھائے ہوئے ہیں۔اب نصیحت اور تبلیغ اور ضمیر کے سامنے اپیل کرنے سے کام لینا چاہیئے اور دعا اور گریہ زاری اور انکساری سے کام لینا چاہیئے ار ظلم برداشت کر کے ظلم کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیئے جتک یہ طریق ہماری وہاں کی آبادی نہیں کھائے گی۔دوبارہ قادیان کا فتح کر مشکل ہے۔ہمارے آدمیوں کو چاہیئے کہ وہ دعائیں کریں اور درد سے رکھیں یہانتک کہ خدا تعالی کی طرف سے ان کو دعاؤں کی قبولیت اور الہام کی نعمت میسر آجائے پھر وہ اس نر کے ذریعہ سے سکھ اور مہندر آبادی کے دیوں کو فتح کیری از بطرح بادا نانک صاحب بادا فریدہ کے مرید ہوئے تھے وہاں کے سکھ اور ہندو ان کے مرید بن جائیں اور جو جسمانی شوکت ہم سے چھن گئی ہے وہ روحانی طور پر ہم کو پہلے سے بھی زیادہ مل جائے۔یہ طریقہ بھی اختیار کریں کوئی مصیبت زدہ سکھ یا ہند ھے تو اس کو یہ تحریک کہیں کہ تم احدیت کی نذر مانو تو تمہاری یہ تکلیف دور ہو جائیگی پھر اس کیلئے دعائیں بھی کریں۔بیماروں کی شفاء مقدمہ دالوں کی فتح اور اس قسم کے اور مصیبت زدوں کے لئے بھی یہ تحریک کرتے رہیں تو تھوڑے دنوں میں ہی سینکڑوں آدمی سکھوں اور سہندوؤں میں اُن کے مرید بن بھائیں گئے اور ایک دھانی حکومت اُن کو جما عمل ہو جائے گئی۔میں نے اور پر لکھا ہے کہ وہاں خود اپنی آمدن پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اسکے چار ذرائع ہیں۔انزل - در کانوں کا افتتاح - دوم - طلب - سوم۔زمینداری۔ہمارے لڑکے وہاں موجود ہیں دہ کہیں کہ ہم اپنی زمینوں میں ہل بیلا نا چاہتے ہیں۔سب لوگ مل کر خود ہی چلی میں زمینوں کو آباد کریں یا در آباد ہ مشرق میں واقع ہے وہ اور اس کے ساتھ ہماری سو ڈیڑھ سو ایکڑ زمین ہے اگر اس میں ملک اور تند کاری دونیر کی کاشت کریں گنا ہوئیں اور کواپریٹو فارم کے طور پر یہ کام شروع کریں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اسمیں سے اکثر کا گزارہ پیدا ہوسکتا ہے اور کم سے کم ایک سال کا غلہ اور ترکاری اور درد و از یکی در انها مفت مل سکتا ہے۔چونکہ آدمیوں نے بدلتے رہتا ہے اسی کو اپر یو اصول پر یہ کام ہونا چاہیئے۔چوتھے چھوٹی چھوٹی صنعتیں تیاری کی جائیں۔جیسے بوسے بنانا۔بیگ بنانا اور اسی قسم کے اور کام میں آدمی ہم باہر سے کام سکھا کر وہاں بھجوا سکتے ہیں۔اس طرح بھی بہت سی آمد پیدا کی جاسکتی ہے۔جب چیزیں بن بھائیں تو وہ مشرقی یا مغربی پنجاب کی منڈیوں میں بیچنے کے لئے بھیجی جا سکتی ہیں۔بہر حال قادیان کی آبادی نصرت کے اصول پر ہی قائم کی جاسکتی ہے اور تصریف کا اصول یہ ہے کہ گفتی دلم خوردن دکم خفتن باتیں