تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 350
۳۴۹ اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آخر ماہ تبوک استمبر سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب - مکرم مون انا جلال الدین صاحب شمش ، مکرم مولانا ابو العطاء صاحب اور محرم مرزا عبدالحق صاحب پرمشتمل کمیٹی قائم ہوچکی تھی جسے بھی حضور کے نئے فیصلہ کے مطابق قرعہ اندازی سے ۲۰۵ افراد کے انتخاب کا کام شروع کر دیا۔اسی سلسلہ میں سہ سے قبل تمام احمدیوں سے پوچھا گیا کہ ان میں سے در ولیوں کے انتخا کیا اولین مرحله کون کون رضا کارانہ طور پر رہنا چاہتے ہیں بعد ازاں مندرجہ ذیل اصول وقواعد کے پیش نظر قرعہ اندازی کی گئی۔ا۔حضرت مصلح موعود کی اولاد اور باقی خاندان حضرت مسیح موعود اور خاندان حضرت خلیفہ اول نہ کے افراد کے الگ الگ قرمے ڈالے گئے۔صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے قدیم ڈھانچہ کو بنیادی طور پر قائم رکھنے کے لئے کوشش کی گئی کہ صدارتین احمدیہ کی مندرجہ ذیل نظارتوں کے نمائند سے اور محررین موجود رہیں :- نظارت علیا - نظارت امور عامه و خارجہ - نظارت ضیافت ، تحاسب - بیت المال تحریک تجدید کے سب صیغوں کی طرف سے ایک نمائندہ کافی سمجھا گیا۔ناظر ضیافت یا ناظر امور عامہ میں سے کسی کو امین بنانے اور دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کی نظارتوں کو دوسری کسی نظارت سے منسلک کرنے کی تجویز کی گئی۔نیز قرار پایا کہ ایک آڈیٹر کا بھی انتخاب کیا جائے۔بیرونی رضا کاروں اور قادیان کے باشندوں میں سے جو احتساب منتخب ہوئے ان میں ایک اہم اصول یہ پیش نظر رکھا گیا کہ ان میں علماء سلسلہ بھی ہوں ، ڈاکٹر اور کمپیو نڈر بھی۔ر اسی طرح آبادی کی سہولت کے لئے دوکانداروں ، دھوبیوں ، حجاموں، درزیوں ، نانبائیں غرضکہ ہر طبقہ کی الگ الگ لسٹیں بنا کہ ان کا قرعہ ناواں گیا۔ہم چونکہ اس وقت خیال یہی تھا کہ تین ماہ کے بعد ان کا تبادلہ ہوتا رہے گا اس لئے محافظین ، خدام بیرونی اور قادیان کے باشندوں کے انتخاب میں یہ بات بھی مد نظر رکھی گئی کہ اچھے قابل اور درمیانی قابلیت کے احباب باری باری رکھے جائیں۔1 خولی نا شمس صاحب ۳ در میاء سے ۵ ارماه نبوت سالہ تک امیر مقامی کے فرائض بجالاتے رہے۔اور انتخاب درویشان کا آخری مرحلہ انہیں کے عہد امارت میں طے پایا ہے