تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 349 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 349

علیهم السلام عزیز احمر صاحب نے اور ماہ افادار اکتو بر روش کو اس سیٹنگ کی روداد حضرت امیر المومنین کی خدمت میں بھجوا دی جس میں سکھا :- اللہ احباب کا خیال ہے کہ یہ لوگ نہ تو کالج ہمیں واپس کریں گے اور نہ مکانات کو اب نمائی کریں گئے اس لئے سوائے مقامات مقدسہ یعنی بہشتی مقبرہ مسجد اقصی مسجد مبارک اور دارالمسیح کے کہیں اور اپنے آدمی نہیں رکھے جا سکتے اور ان مقامات کی حفاظت کے لئے دوصد آدمی کافی ہوں گے اور حضور کی تجویز کے مطابق یکصد آدمی عملہ حفاظت سے نکل آئیں گے اور ۵۰ قادیان کے احباب سے اور باہر سے آئیں گے۔یہاں کے ہندوؤں اور سکھوں کا رویہ ہمارہ سے مقامات مقدسہ کے متعلق نہایت ہے۔اگر گورنمنٹ سے اس بارہ میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو شاید ان کے نظریہ اور ردیہ میں معاندانہ ہے کچھ تبدیل ہو جائے۔حضرت سيد الصلح الموعود کا فیصلہ نے فرمایاکہ آئندہ قادیان میں درج ذیل تقسیم کے ساتھ ۲۵۰ احمدی تعلیم ہیں جو مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فریضہ بجالائیں :- قادیان کے تنخواہ دار محافظین : - بیرونی من کار : HA باشندگان قادیان :- قبل از میں حضور کی منظور شدہ سکیم کے مطابق یہ فیصلہ بھی ہو چکا تھا۔کہ در رب احمدی عورتوں اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے سب بچوں اور بچپن سال سر زیادہ عمر کے سب مردوں کو قادیان سے باہر نکال لیا جائے اور جو مرد اٹھارہ اور پچپن سال کے درمیان عمر رکھتے ہیں ان میں سے قرعہ اندازی کے ساتھ ایک تہائی کو تین ماہ کے لئے قادیان کے اندر ریکھا بجائے اور دو تہائی کو قادیان سے باہر لے جایا جائے۔اور یہ قرعہ اندازی محلہ دار بنیاد پر ہو۔البتہ انتظامی اہمیت والوں کے علاوہ بعض اور مخصوص گروپ بھی علیحدہ کر دیئے جائیں اور ان میں علیحدہ قرعہ ڈال جائے۔مثلاً ڈاکٹر، کیونڈر ، وکلاء، مقامی ملٹری اور پولیس سے رابطہ نہ ابطہ یہ لکھنے والے صدر انجمن حمدیہ اور تحریک جدید کے کارکن ، با در چی ، دھوبی، نائی ذخیرہ "