تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 335
ہے اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے یہ لے اس ضمن میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ " فلسطین کا معاملہ اسلامی دنیا کے لئے ایک نہایت ہی اہم معاملہ ہے۔ایک ہی وقت میں پاکستان ، انڈونیشیا اور فلسطین کی مصیبتیں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تشویش نا صورت پیدا کر رہی ہیں۔ہمیں ان سب مشکلات پر ٹھنڈے دل سے غور کر کے کوئی ایسا راہ نکالنا ہے جو آئندہ اسلام کی تقویت کا موجب ہو اور تمہیں اس وقت اپنے ذہنوں کو دوسری چھوٹی سیاسی باتوں میں پھنسا کہ مشوش نہیں کرنا چاہیے۔فلسطین کا معاملہ ایک اپنی تدبیر کا نتیجہ ہے اور قرآن کریم، احادیث اور بائبل میں ان تازہ پیدا ہونے والے واقعات کی خبریں پہلے سے موجود ہیں " " سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی مصلحانہ جماعت احمدیہ کیلئے بعض خاص ہدایات قیادت کی یہ حیرت انگیزشان بھی کر حضور کی ڈور بین نگاہیں بیک وقت دین کے ہر چھوٹے بڑے محاذ پر جمی رہتی تھیں اور آپ کا آسمانی دماغ وقت کے ہر نئے تقاضے کے عین مطابق صحیح راہ متعین کرنے میں ہمیشہ کامیاب ہو جاتا تھا جس سے نمکین دین کی منزل قریب سے قریب تر ہو بھاتی تھی۔حضور کی اس امتیازی خصوصیت کا ہجرت پاکستان کے بعد بار بار اور نمایاں صورت میں اظہار ہوا۔جبکہ آپ نے ایک طرف عالم اسلام اور خصوصاً مملکت پاکستان کے مسائل میں بصیرت افروز رہنمائی فرمائی اور دوسری طرف احمدیوں کو قدم قدم پر ان کے جماعتی اور ملی فرائض کی طرف متوجہ کیا۔اس تعلق میں یہاں بعض ان ہدایات کا ذکر کیا جانا مناسب ہو گا جو حضور انور کی طرف سے ۱۳۳۶ ایش کی آخری سہ ماہی میں بھاری کی گئیں۔1904 ا حضور نے ارماہ اخا / اکتوبر میش کے حمدیوں کوملکی دفاع کیلئے فوجی فنون سکھنے کی تلقین خطبہ جمعہ میں احمدیوں کو فوجی فنون سیکھنے کی تلقین " الفضل ۲۸ نبوت تو میر نمایش صفحه ۴ کالم ۳ * "افضل" فتح دسمبر له اش صفحه ۳ کالم ۴ به +1982/ 1