تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 321
فصل دوم سید نا المصلح الموعود نے پاکستان کے داخلی مسائل ہی میں راہ نمائی نہیں فرمائی بلکہ اس کے خارجی مسائل بالخصوص کشمیر فلسطین کے معاملات میں گہری دلچسپی لی اور نہایت مخلصانہ اور مد توانہ مشورے دیئے۔حضرت سید نا اصلح الموعود کے مبارک حکومت پاکستان کی طرف سے ابھی تک نہ صرف یہ کہ معامہ کشمیر کے بارے میں سرے سے کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا ہاتھوں سے آزاد کشمیر حکمت یا گیا تھا بلکہ کوئی واضح پالیسی بھی اختیار نہیں کی گئی تھی کہ حضرت سیدنا الصلح الموعود کے مقدس اور مبارک ہاتھوں سے آزاد کشمیر حکومت کا وجود عمل میں آیا جس کی تفصیل سردار گل احمد خاں کو تر سابق چیف پلیٹی آفیسر جمہوریہ حکومت کشمیر کے الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔یکم اکتو بر شکار کو جونا گڑھ میں عارضی متوازی حکومت کا اعلان کیا گیا اور نواب جونا گڑھ کو معزول کیا گیا۔جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے دیکھا کہ یہی وقت کشمیریوں کی آزادی کا ہے تو آپ نے کشمیری لیڈروں اور در کروں کو بلایا میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ مفتی اعظم ضیاء الدین صاحب ضیاء کو عارضی جمہورکیٹی کا صدر بنایا جائے مگر انہوں نے انکار کیا۔اس کے بعد ایک اور نوجوان قادری صاحب کو کہا گیا۔اس نے بھی انکار کیا۔آخر میں قرعہ خواجہ غلام نبی صاحب گل کالہ انور صاحب کے نام پڑا۔دو اکتو بر امر کو گجرات میں ایک اور میٹنگ ہوئی جس میں غضنفر علی خان وغیرہ سے مشورہ ہوا۔بمشورہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم گراتی پلیڈر مسودہ تیار کیا گیا۔اس کی نقل بذریعہ ماسٹر امیر عالم صاحب کو ٹی اور چوہدری رحیم داد صاحب حال سب بیج بھمبر آزاد کشمیر جناب مرزا صاحب کی خدمت میں لاہور بھیج دی گئی۔سیلاب کی وجہ سے راولپنڈی اور لاہور کی ریل بند تھی۔مرزا صاحب نے خواجہ غلام نبی صاحب گل کارہ انور کو اپنے ذاتی ہوائی جہاز میں لاہور سے گوجرانوالہ بھیج دیا۔