تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 320 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 320

اعتراض ہو سکتا ہے۔٣١٩ اس سلسلہ میں حضور نے اس سوال کا بھی ذکر فرمایا کہ آیا پاکستان کی حکومت کو اسلام کا نام دیا جائے یا نہ دیا جائے بحضور نے فرمایا۔پرانے زمانے میں تو ہر جگہ مذہب کے نام پر حکومت چلا کرتی تھی اسلئے اسوقت اور صورت تھی۔اب یہ صورت نہیں ہے۔اب اگر ہم اسلام کا نام حکومت کو دیں گے تو غیر مسلموں کا تو کچھ نہیں بگڑے گا بلکہ ان کا تو فائدہ ہی ہوگا کیونکہ اسلام انہیں پرسنل لاء کے معاملہ میں پوری آزادی دے گا اور ویسے بھی اسلامی لار کے ماتحت انہیں ترقی کے پورے مواقع مل جائیں گے لیکن جہاں غیر مسلموں کی حکومت ہوگی اور مسلمان اقلیت میں ہوں گے وہاں انہیں مسلمانوں کو تنگ کرنے کا موقع ضرور مل بھائے گا کیونکہ وہ کہیں گے کہ ہم بھی اب اپنی حکومت کو مذہبی رنگ دیں گے اور چونکہ ان کا مذہب مذہبی آزادی تو کجا انسانیت کے ابتدائی حقوق بھی غیر مذہب کے متبعین کو دینے کے لئے تیار نہیں ہے اس لئے لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کی مذہبی حکومت مسلمانوں کے لئے سخت تکلیف اور تباہی کا موجب ہوگی۔پس میرے نزدیک مذہب کا نام دینے کی ضرورت نہیں۔اصل غرض تو مذہبی احکامات نافذ کرنے سے ہے۔سو جس جگہ بھی مسلمانوں کی اکثریت ہو ان کا فرض ہے کہ وہ اسلامی احکامات کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ہمیں بھلا غیر مسلموں کو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ ہم تم سے ضرور قرآنی تعلیم پر عمل کرائیں گے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری مذہبی تعلیم ہی ایسی فطرت کے مطابق ہے کہ غیر مسلم آہستہ آہستہ خود اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ آئندہ نظام حکومت مرتب کرنے کے لئے ایسے لوگ مقرر کئے جائیں جو اسلامی لاء کے ماہر ہوں۔اگر ایسے لوگ مقرر کئے گئے جو خود اسلامی لاد سے نا واقف ہوں تو لازمی بات ہے کہ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی قانون بنائیں گے اس کے دو خطرناک نتیجے نکلیں گے۔ایک یہ کہ وہ اسلام کو بدلیں گئے دوسرا یہ کہ چونکہ وہ قانون ناقص اور غیر فطری ہوں گے اس لئے غیروں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقعہ مل جائے گائے ملخصاً " الفضل" وارفتح ا دسمبر مش صفحه ۲ تا ۵ ۰