تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 319 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 319

۳۱۸ میں ہوں، جمہوری اصول کے مطابق اپنی مذہبی تعلیم کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔اس میں کوئی مذہبی مداخلت کا سوال نہیں ہے۔ٹیکر کے متعلق اسلام نے جو نام اصول مقرر کئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ مذہبی دخل اندازی کا اُن میں بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اسلام میں دو قسم کے ٹیکس دینے کا حکم ہے۔ایک زکوۃ شخصی اور ذاتی ہے۔جس شخص کے پاس مال جمع ہو اُسے اس کا چالیسواں حصہ سالانہ زکوۃ میں دینا پڑتا ہے لیکن یہ زکوۃ حکومت وصول نہیں کرتی بلکہ ہر شخص کو انفرادی طور پر خود دینی ہوتی ہے۔اس لئے اس میں کسی جبر کا سوال ہی نہیں ہے۔دوسر ایک کو یہ جانوروں اور زمین وغیرہ کا ہوتا ہے۔سو یہ ٹیکس ساری حکومتیں ہی ٹیکسوں کی صورت میں وصول کرتی ہیں۔مسلمان اگر یہ کسی اسلامی ہدایات کے مطابق وصول کریں گے تو کوئی شخص اسے ذیب میں مداخلت قرار نہیں دے سکتا۔کیا کوئی غیر مسلم کہہ سکتا ہے کہ اگر مثلاً اتنا ٹیکس لو گے تو یہ میرے مذہب کے مطابق ہے اور اگر اتنا لو گے تو یہ مذہب میں مداخلت ہو جائے گی۔سہارا تو یہ دعوی ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ قانون کو اسلام ہی نے جنم دیا ہے سوائے تفصیلات کے جس میں اختلاف ہوا ہی کرتا ہے۔جہانتک اصول کا تعلق ہے موجودہ قانون بڑی حد تک اسلام کی تقریر کردہ لائنوں پر ہی وضع کیا گیا ہے۔پس اسلام نے جو اصولی تعیم دیا ہے وہ کسی کے لئے بھی موجب اعتراض نہیں ہو سکتی اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تعلیم جمہوریت کے اصولوں کے منافی ہے حضور نے بطور مثال اس سلسلہ میں پردہ کے متعلق اور مقدمات میں گواہوں کی شہادت لینے کے متعلق اسلام کی پر حکمت تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت سے بتایا کہ در حقیقت ایک بھی محکم اسلام کا ایسا نہیں جو انسانی فطرت اور طبعی تقاضوں کے مطابق نہ ہو اور جس کے متعلق کوئی غیر مسلم یہ کہہ سکتے کہ یہ مذہب میں مداخلت ہے۔پس اس صورت میں یہ بحث ہی فضول ہے کہ پاکستان میں اسلامی حکومت ہوگی یا نہ ہو گی۔اس حصہ کے متعلق پاکستان میں یقیناً اسلامی احکام نافذ ہونے چاہئیں اور چونکہ وہ قطرت کے مطابق ہیں اس لئے ان کے نفاذ میں نہ کوئی مشکل پیش آسکتی ہے اور نہ کسی کو