تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 21 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 21

۲۱ مجاہد رفضنا کار سرائے عالمگیر کی طرف روانہ ہونے سے قبل رتن با غ میں ہی قیام فرمارہ ہے، اور عرصہ تک ان کی اور حفاظت مرکز کے مستقل خدام کی تربیت یہاں ہی ہوتی رہی۔العرض " رتن باغ کو حضرت مصلح موعود کے رہائش پذیر ہونے کے بعد جماعت احمدیہ میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی تھی جو 19 تبوک استمبر رش تک برقرار رہی۔حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعود یونکہ جماعت احمدیہ رین باغ میں مشاورتی میل کا باقاعدہ سلسلہ کی اور تنظیم کے بارے میں تنہائی محکمہ وشوش تھے اس لئے حضور نے صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی تاسیس کے ساتھ ہی یہ حکم دے دیا کہ ناظر صاحبان اور بعد ازاں صدر انجمن یا تحریک جدید کے بعض مخصوص شعبوں کے انچارج) روزانہ رتن باغ میں جمع ہوں اور اپنی رپورٹیں سنا کہ ہدایات حاصل کریں۔چنانچہ ابتدائی اور ہنگامی ایام میں روزانہ اور پھر حسب ضرورت ہفتہ میں تین ، دو یا ایک بار یہ اہم مشاورتی میٹنگ ہوتی تھی۔اس سلسلہ کی آخری مجلس جس کی کارروائی محفوظ ہے، ہم شہادت اپریل ش کو منعقد ہوئی۔اس مجلس میں وقتاً فوقتاً جن اصحاب کو شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی اُن کے نام یہ ہیں :- حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ناظر اعلی خانصاحب منشی برکت علی صاحب ناظر بیت المال - چودھری عبد الباری صاحب نائب ناظر بیت المال حضرت نواب محمد الدین صاحب۔حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد ناظر امور خارجہ - مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب ناظر الخلاب و آبادی - مولوی محمد صدیق صاحب ملک سیف الرحمن صاحب قمران انبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب - حضرت صاحبزاده همرزا عزیز احمد صاحب جنتر براده رزا ناصر احمد صاحب حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب ناظر ضیافت۔ملک غلام فرید صاحب ایم۔اسے ایڈیٹر تفسیر القرآن - مولانا جلال الدین صاحب خمس را به علی محمد صاحب ناظر بیت المال چودھری بہار الحق صاحب مولوی عبد الرحمن صاحب انور انچارج تحریک جدید چودھری محمد شریف صاحب خالد - چودھری برکت علی صاحب فنانشل سکرٹری۔قریشی عبد الرشید صاحب حضرت مولوی عبد المغنی صاحب حکیم فضل الرحمن صاحب - مولوی نور الدین صاحب منیر مرزا بشیر احمد بیگ صاحب - مولوی عبداللہ صاحب انجاز - ڈاکٹر عبدالواحمد صاحب