تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 309
موٹروں پر آگے پیچھے بھیجا جاسکتا ہے اور جہاں پر سے فوج قطاروں میں مارچ کر سکتی ہے غرض یہاں تک فوجی نفری کا سوال ہے۔صرف مشرقی پاکستان ہی تمام پاکستان کی ضرور تو کو پورا کر سکتا ہے اور اس معاملہ میں کسی مایوسی کی ضرورت نہیں۔ہاں سوال صرف یہ ہے که اگر خدانخواستہ دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ جائے تو اتنی فوج نہیں کس طرح کی جائے گی سپاہیا نہ قابلیت کا آدمی موجود ہونا اور بات ہے اور سیاہی کا موجود ہونا اور بات ہے ہر جاٹ اور بلوچ سپاہی بننے کی قابلیت رکھتا ہے لیکن ہر ھارٹ اور بلوچ سپاہی تو نہیں اس لئے بغیر فوجی مشق کے جنگ کے وقت میں وہ کام نہیں آسکتا اور جنگ کے وقت فوری طور پر سپاہی کو فنون جنگ سکھائے نہیں جاسکتے اور اس سے بھی زیادہ مشکل یہ ہے که افسر فوراً تیار کئے جاسکیں۔افسروں کی تعداد بالعموم ڈیڑھ فیصد کی ہوتی ہے۔۲۷ لاکھ فوج کے لئے چھوٹے بڑے افسر ۴۰ ہزار کے قریب ہونے چاہئیں۔ہماری تو ساری فوج ہی۔۳ ہزار ہے۔اگر خطر سے کا موقع آیا تو کسی صورت میں بھی اس فوج کو معقول طور پر وسیع نہیں کیا جا سکتا اور اس کا علاج ضروری ہے۔یہ علاج کس طرح ہو سکتا ہے۔اس کے لئے یہ مختلف سکیمیں پیش کی جا رہی ہیں اور پیش کی جاسکتی ہیں۔اول مملک کے تمام افراد کو رائفیں رکھنے کی کھلی اجازات دکھا جائے۔اور جہاں تک ہو سکے گورنمنٹ خود را نفلیں سستے داموں پر نہیا کرے۔میں ہو دیم نیشنل گارڈز کے طریق کو رائج کیا جائے جو مسلم لیگ کے ماتحت ہو۔۔سوم۔ہوم گارڈز کے اصول پر نوجوانوں کو فوجی ٹریننگ دی بجائے جو گورنمنٹ کی نگرانی چہارم۔ایک ٹیریٹوریل فورس فوجی انتظام کے ماتحت تیار کی جائے۔پنجم جبری بھرتی ملک میں جاری کی جائے اور اس کا انتظام ملٹری کے ماتحت جو حضور نے ان پانچوں پہلوؤں پر ناقدانہ نظر ڈالتے ہوئے فرمایا :- ملک میں اسلحہ کو بالکل آزاد کر دینا اسلئے درجہ کے تعلیم یافتہ ملکوں میں بھی کبھی بابرکت "الفضل ۲ از اکتوبر ۱۹۴۷ صفحه ۱-۲ *