تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 299
۲۹۷ I dont believe in these promises۔Anj- man neglected its duty۔" "} یعنی مجھے ان وعدوں پر قطعاً اعتماد نہیں۔انمیں نے اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی کی ہے چوہدری عبدالباری صاحب مختار عام جو صدر انجین احمدیہ کی طرف سے اس کام پرتعین تھے پہلے بھی تین بار چنیوٹ اور جھنگ جا کر قبضہ لینے کے لئے دوڑ دھوپ کر چکے تھے مگر کوئی عملی نتیجہ ظاہر نہ ہوا تھا لیکن اب جو حضور کا تارپہنچا تو خدا کے فضل و کرم اور حضور کی دعاؤں اور تو بعد روحانی کی بدولت ر ظهور / اگست میش کو صدر انجین احمدیہ پاکستان حکومت سے زمین کا قبضہ لینے میں کامیاب ہوگئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔ال آخر را جہ علی محمد صاحب سابق ناظر بیت المال کا ایک قیمتی نوٹ جس سے حضرت مصلح موعود کی خرید اراضی کے بارے میں غیر معمولی سرگرمی اور پر جوش بعد وجہد کا پتہ چلتا ہے ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔لکھتے ہیں۔" اس رقبہ کے حصول کے لئے حضور کی سرگرمی اور گرم جوشی کا بیان کرنا میری تسلیم کی طاقت سے باہر ہے۔اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے ہم میں سے بعض یہ خیال کرتے تھے ، کہ جس کام کا ارادہ حضور کر لیں آپ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔اس وقت تمام فکر و تدبیر مشغولیت و مصروفیت اور حضور کی ہمہ تن توجہ اس کام کے لئے وقف شدہ معلوم ہوتی تھی لیکن جلد کی بعد میں جب آنے والے واقعات نے ہماری آنکھیں کھولیں تو حضور کی عجلت پسندی اور فکر اور گرمجوشی ہمارے لئے دست غیب کا ایک کرشمہ تھا جو حضور کے ہاتھ پر ظاہر ہوا کیونکہ اس کے بعد بہت جلدی جماعت احمدیہ کے خلاف تعصب ، بغض وعناد اور حملہ اور نفرت کا لاوا اندر ہی اندر پکنا شروع ہو گیا۔اور ہوں جوں دن گزرتے گئے جماعت احمدیہ کے ساتھ ہمدردی اور خیر سگالی کا جذبہ جو قادیان اور اس کے گرد و نواح میں مسلمانوں کی حفاظت کے لئے احمدیوں کے مثالی مومنانہ ایثار اور استقلال کی وجہ سے پیدا ہوا تھا وہ افراد و کذب بیانی اور منافرت کے لاوا میں دیتا گیا۔اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہماری ہر بات کو نا کام کرنے کی کوشش کی بھانے لگی۔ایسے حالات میں کوئی یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ربوہ کی سرزمین کا حاصل کرنا